تحریر

عزیز الرحمان کے ساتھ

عزیز الرحمان کے ساتھ
تعلیمی کیمپ
بیتے برسوں (1998ء) کی بات ہے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلے جاری تھے۔ جامع مسجد امام بخاری جی ایٹ میں داخلہ ٹیسٹ کی تیاری کے لئے کیمپ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ قاضی عبدالکریم بھائی مجھے وہاں لے آئے۔ میں ایک روز قبل ہی منصور شکیل کے پاس کویت ہاسٹل میں پہنچا تھا۔ مسجد میں سینئر سٹوڈنٹس امیدواروں کو ٹیسٹ کی تیاری کروا رہے تھے۔ اورنگزیب صاحب نے آگاہی دی۔ وہاں چشمہ لگائے، واسکٹ پہنے، صاف ستھرے لباس میں باریش نوجوان بھی سکھانے آئے۔ سوال و جواب ہوئے۔ سنجیدہ، کم آمیز، مہذب اور علم دوست نوجوان متاثر کن لگا۔ ایک روزقریبی ہوٹل پر اس نوجوان نے میری میزبانی کی۔ تبادلہ خیال اور Discussion رہی۔ دو روزہ کیمپ اختتام کو پہنچا۔ میں ٹیسٹ و انٹرویو میں کامیاب ہوا۔ شریعہ اینڈ لاء میں داخلہ ہوگیا۔ فیصل مسجد کے نیچے بلاک میں کلاسز ہوا کرتی تھیں۔ ایچ ٹین میں ابھی یونیورسٹی کی عمارت زیر تعمیرِ تھی۔ اس نوجوان سے قلبی تعلق پختہ ہوگیا۔ یہ نوجوان حافظ عزیزالرحمان تھے شریعہ اینڈ لاء میں میرے سینئر۔۔۔

یونیورسٹی میں
میں عریبک لینگویج کے کورس لے رہا تھا۔ عزیز بھائی سے یونیورسٹی میں ملاقات ہوتی رہتی تھی، لیکن بہت زیادہ نہیں۔ میں ہاسٹل کا مکین تھا اور وہ اسلام آباد کے رہائشی۔ مجھے تقریر و خطابت کا شوق تھا سو یہاں آ کر بھی اس شوق کو جاری رکھا۔ بہت سے طلبہ سے تعارف ہوا۔ خیر عزیزالرحمان بھائی سے تعلق کے پودے نے دل میں جڑ پکڑ لی تھی۔ دو سمسٹر مکمل ہوئے۔ میں Deferment التوا لے کر ایک سال کے لئے جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی جا پہنچا۔ ایک برس بعد جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ داخلہ ہوگیا۔ ویزہ پراسس کے لئے اسلام آباد آنا ہوا۔ یونیورسٹی میں بھی کچھ رسمی کاروائی باقی تھی۔ دوستوں سے ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں برسوں رابطہ نہیں ہوا۔

تجدیدِ تعلق
پھر Facebook (چہرہ کتاب) کے توسط سے رابطہ بحال ہوا۔ چند برس قبل اسلام آباد آیا تو فون پر رابطہ ہوا۔ ڈاکٹر حافظ عزیزالرحمان (چئیرمین لاء ڈیپارٹمنٹ، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد) سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ عزیزالرحمان بھائی نے LLB شریعہ اینڈ لاء بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے کیا۔ LLM کی ڈگری سٹاک ہوم یونیورسٹی سے لی۔ PhD آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے کی۔ پی ایچ ڈی Thesis کا موضوع Intellectual Property Law سے متعلق تھا۔ اس کے علاوہ Health Law سے متعلق اور Comparative Law سے متعلق ریسرچ پیپرز بھی تحریر کیے ہیں۔ برسوں بعد اس روز یونیورسٹی کا جدید اور دیدہ زیب کیمپس دیکھا۔
نمازِ جمعہ کا وقت ہوچکا تھا۔ الھدیٰ اسلام آباد یونیورسٹی کے قریب ہے۔ الھدیٰ بیسمنٹ میں پہنچے۔ ڈاکٹر ادریس زبیر حفظہ اللہ نے ماہ شعبان کے حوالے سے خطبہ جمعہ پڑھایا۔ عزیرالرحمان بھائی کے ساتھ ان سے مختصر ملاقات رہی۔ عزیزالرحمان بھائی کشمیر ہائی وے (حالیاً سری نگر ہائی وے) پر واقع ایک ریستوران میں لے گئے۔ ڈاکٹر عابد مسعود (انگلش ڈیپارٹمنٹ) بھی ہمراہ تھے۔ باتیں پرانی، اور یادیں سہانی۔۔۔ دوست عزیز تھا اور کھانا لذیذ۔ یاد گار مجلس رہی۔ فیس بک اور واٹس ایپ پر رابطہ برقرار تھا۔
دو برس قبل راقم مکہ میں تھا، عزیز بھائی خواب میں آن وارد تھے۔ رابطہ کیا، اہم موڑ اور اہم فیصلہ پر متذبذب تھے۔ مشورہ دیا اور دعا دی۔ قانون سے متعلق کبھی استفسار ہو تو دریافت کر لیتا ہوں۔ شرعی حوالے سے عزیزالرحمان بھائی کچھ پوچھ لیتے ہیں۔ گاہے گاہے علمی تبادلہ جاری رہتا ہے۔
قاری صہیب میر محمدی حفظہ اللہ نے قرآن کالج کے ساتھ خوب صورت اور وسیع مسجد کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا۔ وہاں ملاقات ہوئی تو عزیزالرحمان بھائی نے اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔ چند ماہ قبل عزیزالرحمان بھائی نے فرانسیسی مصنوعات بائیکاٹ کے تناظر میں LU بسکٹس کی پاکستان میں IPO رجسٹریشن کے حوالے سے علمی تحریر لکھی تھی۔ میں جب ایک تجارتی کمپنی سے منسلک تھا تو IPO (ٹریڈ مارک رجسٹریشن، کاپی رائٹ) کے معاملات وکیل سے Discuss کرتا تھا تو عملی اعتبار سے سیکھنے کا موقع ملا۔ یہی میری IPO میں دل چسپی کا باعث بنا۔

مرکز اہلِ حدیث جی سِکس
اب اسلام آباد کے سفر کا ارادہ کیا تو عزیزالرحمان بھائی سے رابطہ کیا۔ 19 مارچ 2021ء کو مرکز اہلِ حدیث جی سِکس میں خطبہ جمعہ اور ملاقات طے پائی۔ خطبہ سے قبل مرکز پہنچ گیا۔ عزیزالرحمان بھائی موجود تھے۔ ابوبکر صدیق بھائی سے ملاقات ہوئی۔ خطبہ جمعہ میں سورۃ البقرہ کی پہلی 5 آیات کی توضیح سامعین کے سامنے بیان کی۔ مرکز اہلِ حدیث کے فیس بک پیج پر خطبہ لائیو نشر ہوا۔ خطبہ کے بعد مختلف موضوعات پر گفتگو جاری رہی۔
عزیزالرحمان بھائی نے بتایا کہ مرکز اہلِ حدیث اسلام آباد کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے۔ سی ڈی اے نے مسجد کو تعمیر کیا تھا۔ ابوبکر صدیق بھائی نے خوش ذائقہ اور خوش مزہ کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ یونیورسٹی دور کے احباب حفیظ الرحمن بھائی (گوجرنوالہ) اور سرور عاصم بھائی اور دیگر کا تذکرہ ہوا۔
عزیز الرحمان بھائی سے اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستان میں بالعموم اور اسلام آباد میں بالخصوص اسلامی تشخص کی آبیاری میں اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد، دعوۃ اکیڈمی اسلام آباد، اور شریعہ اسلام آباد اکیڈمی کا کردار قابل تحسین ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی اہمیت و اثرات تذکرہ ہوا۔ شاہ فیصل مرحوم اور ضیاء الحق مرحوم کا ذکر خیر ہوا۔
چند ماہ قبل نافذ ہونے والا اسلام آباد وقف ایکٹ زیر بحث آیا۔ عزیزالرحمان بھائی کا کہنا تھا کہ وقف ایکٹ کے حوالے سے قانونی و عدالتی محاذ پر کام کرنا ضروری ہے۔ وفاقی شرعی عدالت میں سود سے متعلق جاری عدالتی کیس بھی زیر بحث آیا۔ گرم قہوے کا آخر گھونٹ بھر کر اجازت چاہی۔ باہر نکلا تو سورج کی گرمی منتظر تھی۔ لیکن یادگار ملاقات کی خنکی اور خوبصورتی نے تمازت کے احساس کو ماند کر دیا۔
کچھ یادیں ، کچھ باتیں پر واپس