کچھ یادیں
جامعہ اسلامیہ مدینہ سے جو حاصل کر پایا، اس میں ایک اہم ذخیرہ علماء سے ملاقات کا خزینہ ہے۔ پاکستان سے علماء تشریف لاتے تو ان سے یاد گار ملاقات ہوتی۔ سوالات کرتے، سیکھتے، مجلس ہوتی۔ مجھے یاد ہے کہ مدینہ منورہ میں عبیداللہ بھائی کے گھر میں الشیخ حافظ ثناءاللہ المدنی رحمہ اللہ بستر پر دراز تھے۔ نورانی چہرہ، روشن آنکھیں، بارعب شخصیت۔ عبیداللہ بھائی ان کو دبا رہے تھے۔ میں بھی ملنے حاضر ہوا۔ کچھ سوالات کیے۔ ایک سوال رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنے کے حوالے سے بھی تھا۔ الشیخ سے براہِ راست استفادہ کا باقاعدہ موقع نہیں ملا۔ البتہ الشیخ کے محدث میں شائع ہونے والے فتاوی اور الشیخ کے فتاوٰی ثنائیہ مدنیہ سے استفادہ کیا۔ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں الشیخ کے درس بھی سننے کا بھی اتفاق ہوا۔ چند ایام قبل الشیخ کی وفات کی خبر ملی، تو کچھ لکھنے کا ارادہ باندھا۔
برسوں پرانی بات ہے کہ نکاح و شادی سے متعلق میں نے چند سوال ارسال کیے۔ الاعتصام 21 تا 27 جون 2002ء (شمارہ 24) میں احکام و مسائل میں الشیخ نے ان سوالات کے جوابات دیئے۔ سوال (10) کے جواب میں لکھتے ہیں: ”نکاح کے وقت سلامی ایک رسم ہے اس سے بچنا چاہیے، ویسے تحائف کے تبادلے کی عمومی ترغیب وارد ہے۔ حدیث ”تھادوا“ سے استدلال ہو سکتا ہے لیکن قصہ صفیہ (رضی اللہ عنہ) (صحیح بخاری: 371) سے استدلال درست نہیں کیونکہ یہ تو صرف ولیمے کے لیے جمع خرچ تھا۔“
مجلس کبار العلماء کا تاسیسی اجلاس 24 اور 25 جون 2007ء لاہور کے مضافات میں بستی کوٹ عبدالمالک میں منعقد ہوا۔ اجلاس دو دن مسلسل جاری رہا۔ اجلاس 6 نشستوں پر مشتمل تھا۔ اس اجلاس میں الشیخ حافظ ثناءاللہ المدنی رحمہ اللہ کے زیر امارت کام کرنے پر اتفاق ہوا۔ قومی سطح پر ڈاکٹر عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کو نائب امیر مقرر کیا گیا۔ اس کی تفصیل ہفت روزہ الاعتصام میں 2007ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علماء کے ہاں الشیخ کا مقام و مرتبہ کیا تھا۔
محدث اپریل 2005ء (شمارہ 4) کے شمارے صفحہ 35 میرے سامنے ہے۔ اس میں دارالافتاٰء کے عنوان سے لواطت اور سحاق کی سزا، اللہ تعالی پرصیغہء جمع کا استعمال، انگلیوں پر تسبیحات گننا، نمازِ جنازہ و عیدین میں رفع الیدین جیسے متنوع موضوعات پر الشیخ نے سوالات کے جواب رقم کئے ہیں۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ میں میرے ساتھی حافظ عبداللہ خاں، الشیخ کے داماد ہیں۔ ان دنوں چیچہ وطنی میں سنابل ایجوکیشنل کمپلکس کے نام سے ادارہ کامیابی سے چلا رہے ہیں۔ مجھے ادارہ کی مسجد میں چند برس قبل خطبہ جمعہ دینے کی سعادت حاصل ہوئی تھی۔ عبداللہ بھائی کو کال کی اور ان سے تعزیت کی۔ محترم عبیداللہ غازی حفظہ اللہ کو الشیخ کے خاص تعلق تھا۔ عبیداللہ بھائی حالیا قطر میں مقیم ہیں۔ عبیداللہ بھائی خوش مزاج، سادہ اور مہمان نواز ہیں۔ مدینہ میں ان کے گھر بھی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوچکا ہوں۔ ان سے کچھ تاثرات طلب کئے۔ انھوں نے آڈیو میں یادیں ارسال کیں۔ چار وائس میسجز میں 2 بار ان کی آواز بھرا گئی۔
کمزوری میں بھی طاقت ور
عبیداللہ بھائی بیان کرتے ہیں: ”اعجاز بھائی! ویسے تو حافظ صاحب کی اکثر دس سے بارہ گھنٹے کی مجالس ہوتی تھیں۔ مسجد نبوی میں بھی ان کے ساتھ شریک تھا انہوں نے سنن الدارمی اور بلوغ المرام تقریبا پانچ دنوں میں ختم کروائی۔ یہ جو مجالس ادھر (قطر) میں ہوتی تھی۔ صحیح البخاری اور مسند احمد کی سماعت کی اور بے شمار احادیث کی کتابوں کی سماعت کی مجالس ہوئیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہم حافظ صاحب کو مجلس سے ان کے کمرے میں لے کر جایا کرتے تھے تو ان کے اندر اتنی ہمت نہیں ہوا کرتی تھی کہ وہ چل کر جائیں۔ ہم ان کو پکڑ کر، کبھی ویل چیئر پر لے کر جایا کرتے تھے۔ دیکھنے والا یہ محسوس کرتا تھا کہ یہ بہت ہی ضعیف ہیں۔ بہت ہی کمزور ہیں۔ ان سے شاید ان سے بولا بھی نہ جائے۔ یہ حرکت بھی نہ کر پائیں۔ لیکن جب احادیث کی مجلس میں سماعت ہوتی تھی جب بیٹھتے تھےتو جتنے بھی افراد اس مجلس میں ہوتے تھے نوجوان ہو یا بوڑھے، سب سے طاقت ور حافظ صاحب نظر آتے تھے۔
میں آپ کو ان کا طریقہ بیان نہیں کر سکتا۔ ان کا جو انداز تھا مجلس میں بیٹھنے کا وہ ایسے ہوتا تھا جیسے ایک انتہائی خبردار اور بیدار مغز آدمی ہو جس کی ہر حرف پر توجہ ہو۔ قاری جب احادیث کی قرأت کر رہا ہوتا تھا تو فوراً ہر حدیث پر سب سے پہلے اس کی تحقیق بیان کرتے۔ نسخوں کا موازنہ کرتے کہ فلاں نسخے میں یہ ہے اور فلاں میں یہ ہے۔ پھر اس کی تخریج بیان کرتے کہ فلاں احادیث کی کتاب میں یہ ہے اور اس انداز میں آئی ہے۔ پھر اس کے ساتھ تعلیق بھی کرتے۔ حافظ صاحب کے پاس کوئی کمپیوٹر نہیں۔ کوئی کاغذ نہیں۔ کوئی پینسل نہیں۔ یہ سارا کا سارا وہ اپنے حافظے سے کرتے تھے۔
اور میری طبیعت میں مزاح کا عنصر ہے۔ حافظ صاحب کے سامنے کوئی بات کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا لیکن میں (عبیداللہ) ہلکا پھلکا چٹکلا کہہ دیتا تھا۔ میں نے کہا حافظ صاحب جب آپ چلتے ہیں تو آپ درد سے کراہتے ہیں۔ جب احادیث پڑھی جاتی ہیں تو آپ جیسا طاقتور آدمی نہیں کوئی نظر آتا؟ مجھے تو ایسے لگتا ہے جیسے آپ کو اس وقت کوئی ڈرپ (مغذیات) لگی ہوتی ہیں۔ حافظ صاحب کے چہرے پر اس وقت (دورانِ سماعت) عجیب قسم کی نورانی کیفیت ہوا کرتی تھی۔“
اپنے اُستاد ابنِ باز رحمہ اللہ سے محبت
"اور اسی طرح کا ایک واقعہ ہے۔ الخرج (الریاض) کے ساتھ اس کے ساتھ ایک بستی الفیحاء ہے۔ وہاں میرے سعودی دوست تھے۔ میں (عبیداللہ) الفیحاء میں تھا انہوں نےمجھے بتایا کہ یہ شیخ عبدالعزیز ابنِ باز رحمہ اللہ کی بستی ہے وہ یہاں رہتے تھے۔ اس اثناء میں حافظ صاحب کی کال آئی کہ کہاں پہ ہو۔ میں نے بتایا کہ میں الفیحاء میں ہوں۔ جس طرح استاد کا انداز ہوتا کہ وہاں کیا کر رہے ہو، خیر ہے! میں نے کہا کہ یہاں دوست ہے اور مجھے پتہ چلا کہ شیخ ابنِ باز کی یہ بستی ہے۔ تو کہتے ہیں ادھر ہی رہو میں ابھی آیا۔ میں نے کہا: 'استاد جی، میں آجاتا ہوں۔' تو کہتے ہیں: 'نئیں، میں اپنے استاد دا پنڈ ویکھنا اے'۔ (میں نے اپنے استاد کا گاؤں دیکھنا ہے۔)
وہ 70 کلومیٹر دور الریاض میں تھے اور ایک گھنٹے بعد پہنچ گئے۔ جب آئے تو تعارف ہوا۔ پھر حافظ صاحب نے درس دیا۔ وہاں ایک عرب نے سعودی فرماں روا ملک عبدالعزیز رحمہ اللہ کے سامنے ابنِ باز رحمہ اللہ کی حق گوئی کا واقعہ بیان کیا۔ حافظ ثناءاللہ صاحب کا اپنے استاد ابنِ باز رحمہ اللہ کے آثار کے حوالے سے اشتیاق قابلِ دید تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پہ ان کا گھر تھا۔ اس محلے میں رہتے تھے۔ کیونکہ آبادی حوادث زمانہ کے ساتھ تبدیل ہو چکی تھی۔ حافظ صاحب کہہ رہے تھے کہ میرے استاد یہاں چلتے ہوں گے، اسی فضا سے گزرتے ہوں گے۔ اور حافظ صاحب آبدیدہ تھے اس وقت۔ اور عجیب محبت کا انداز تھا ان کا اپنے استاد کے ساتھ۔۔"
اس سے بڑا محدث میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا
”اعجاز بھائی! آج آپ نے حافظ صاحب کی بہت زیادہ یاد دلا دی ہے۔ ایک دن میں (عبیداللہ) اسحاق بھٹی رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا ایک حدیث تھی جو نہ مجھ کو سمجھ آ رہی تھی اور نہ ہی ان کو۔ وہ مجھے سمجھا رہے تھے اور میں ان کو سمجھا رہا تھا۔ بھٹی صاحب کہنے لگے کہ ہم یہ حدیث کس سےسمجھیں۔ میں نے کہا کہ ہم حافظ صاحب کے پاس چلتے ہیں۔ اس وقت موبائل نہیں ہوا کرتے تھے۔ الحمدللہ میرے ساتھ حافظ صاحب بے تکلف تھے تو ہم حافظ صاحب کے پاس چلے گئے۔ اسحاق بھٹی صاحب کے ساتھ تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ بھٹی صاحب انسائیکلو پیڈیا تھے۔ تمام علماء کے حالات، تعلیم، تاریخ، وغیرہ سے واقف تھے۔ حافظ صاحب نے ہماری خاطر تواضع کی۔
اس کے بعد ہم نے حدیث ان کے سامنے رکھی۔ تو وہ ہمیں اپنے مکتبے (لائبریری ) میں لے گئے۔ انہوں نے فتح الباری نکال لی۔ فتح الباری میں انہوں نے کاغذ کے ٹکڑے کاٹ کر اس حدیث کا پریکٹیکل بنا کے رکھا ہوا تھا۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم پریزنٹیشن بناتے ہیں۔ کہنے لگے کہ یہ ہے خط (لکیر)۔ یہ ہیں عمل۔ یہ ہے موت اور یہ ہے انسان کی زندگی۔ اسحاق بھٹی صاحب نے کہا میں کچھ لکھنا چاہ رہا ہوں تو حافظ صاحب نے کہا آپ میری طرف سے یہ لے جائیں۔ میں نیا بنا لوں گا۔ تو اسحاق بھٹی صاحب کی آنکھوں میں اس وقت آنسو تھے۔ اور کہنے لگے کہ اس سے بڑا محدث میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔“
فتح الباری سے تیاری
عبیداللہ بھائی کہتے ہیں: ”حافظ صاحب پڑھانے کے لئے تیاری کرتے تھے وہ بھی اس کا ایک عجیب انداز تھا۔ آپ کے پاس فتح الباری کے تین نسخے تھے۔ ان میں سے ایک حافظ صاحب نے جامعہ رحمانیہ لاہور میں رکھا ہوا تھا۔ ایک لاہور میں جو گھر ہے اس میں رکھا ہوا تھا۔ ایک جو گاؤں میں گھر آئیں وہاں پر رکھا ہوا تھا۔ شاید آپ کے علم ہو کہ حافظ صاحب سوشل ورکر بھی تھے۔ گاؤں کی معاملات پنچایت وغیرہ کے فیصلے وغیرہ بھی وہی کیا کرتے تھے۔ اکثر ان کو گاؤں میں جانا پڑتا تھا۔ رات کو واپس آنا مشکل ہوتا تھا۔ تو حافظ صاحب وہاں پر بھی مطالعہ کرتے تھے۔ اگر لاہور والے گھر میں رکتے تو وہاں پر مطالعہ کرتے۔ جامعہ میں وقت سے پہلے آجایا کرتے تھے اور آکر پھر وہاں پر بھی فتح الباری کھول کر مطالعہ کرتے تھے۔ چالیس سال صحیح البخاری پڑھائی ہے آج تک انہوں نے بغیر مطالعے کی کبھی سبق نہیں پڑھایا۔ فتح الباری ہمیشہ ان کے پاس ہوتی تھی ان کا اوڑھنا بچھونا فتح الباری ہی تھا۔“
دعا کی قبولیت اور مالک کی عنایت
قاری عبیداللہ غازی حفظہ اللہ (قطر) نے ایک اور دل پذیر واقعہ آڈیو میسج میں بیان کیا ہے: 'اعجاز بھائی! یہ اسی سال (غالباً 2002ء یا 2003ء) کا واقعہ ہے جب حافظ ثناءاللہ صاحب میرے پاس مدینہ میں تشریف لائے تھے۔ تو آپ بھی ہمارے ہاں تشریف لائے تھے۔ حافظ صاحب مدینہ سے حج کے لیے روانہ ہوگئے۔ حافظ صاحب کے پاس ایک ڈائری ہوا کرتی تھی۔ اس میں انہوں نے اپنے خاص الخاص افراد کے نام و فون نمبر لکھ رکھے تھے۔ ان کی شفقت تھی کہ ڈائری میں لکھی فہرست میں میرا نام بھی ابتدا میں دوسرا یا تیسرا تھا۔ جب حافظ صاحب حج کے لیے تشریف لے گئے تو حج کے دوران ان کی پیٹی (بیلٹ) Belt کھو گئی۔ اس پیٹی میں ڈائری، سفری کاغذات کے علاوہ ڈالروں اور ریالوں کی صورت میں بھاری رقم تھی۔
شاید 15 ذوالحجہ کو مجھے کچھ مسڈ Missed کال آئیں، پھر فون کال آئی۔ کال کرنے والے اجنبی نے کہا: ”مجھے فون کرو۔“ میں نے سوچا کہ بار بار کال کر رہا شاید کوئی غیر معمولی معاملہ ہے۔ میں نے نمبر ڈائل کیا، کہنے لگا: ”مجھے ثناءاللہ سے بات کرنی ہے۔“ حسنِ اتفاق سے میرے پاس قاری ثناءاللہ صاحب (لاہور) موجود تھے۔ میں نے ان کو فون پکڑا دیا۔ قاری صاحب کو عربی زبان سے شدھ بدھ نہ تھی۔
قاری صاحب فون پر کہنے لگے: ”مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔“ پھر کہتے: ”چلو جی ٹھیک ہے، کوئی بات نہیں۔“ کالر Caller (کال کرنے والے) نے یہ خیال کیا کہ یہ مطلوبہ شخص نہیں۔ یہ تفصیل حافظ ثناءاللہ مدنی صاحب نے مجھے اگلے برس ملاقات پر بیان کی۔
حافظ ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں حج سے فارغ ہو کر الریاض چلا گیا۔ وہاں میرے میزبان عبدالستار قاسم صاحب تھے۔ کالر نے عبدالستار قاسم کو فون کیا اور کہا: ”میں نے ثناءاللہ سے بات کرنی ہے۔“ وہ کالر فکرمند تھا، اس نے آپ (عبیداللہ غازی) کے علاوہ تین آدمیوں کو فون کیا۔ چوتھا آدمی جس کو کال کی وہ عبدالستار قاسم تھے۔ میں (حافظ ثناءاللہ مدنی) نے کالر سے بات کی تو کالر نے گم شدہ پیٹی کی علامات اور نشانیاں دریافت کیں۔ میں نے رقم اور سفری کاغذات سے متعلق معلومات دیں، تو وہ کالر کہنے لگا: ”میں نائی (حجام) ہوں، جدہ میں صالون (Hair Saloon) پہ کام کرتا ہوں۔ آپ کی امانت مجھے ملی ہے، آپ آ کر لے جائیں۔“ میں نے جواب دیا: 'میں تو اتنا سفر نہیں کر سکتا۔ میں کسی کو بھیجتا ہوں۔' میں نے عبدالستار قاسم صاحب سے کہا کہ آپ ہوائی جہاز سے چلے جائیں اور امانت لے آئیں۔“
عبیداللہ بھائی کہتے ہیں کہ حافظ صاحب کی دعا اللہ رب العالمین نے قبول فرمائی۔ چند دنوں ہی میں گمشدہ بھاری رقم اور کاغذات مل گئی۔ لازم بات ہے حافظ صاحب نے کالر کے لیے بھی دعا کی کہ اللہ اس کو جزائے خیر دے عبدالستار قاسم صاحب جہاز میں سفر کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ نشست پرایک اہل ثروت سعودی تھا۔ تعارف ہوا تو عبدالستار قاسم صاحب نے یہ واقعہ بیان کیا کہ امانت وصول کرنے جا رہا ہوں، حافظ صاحب کا غائبانہ تعارف بھی کروایا۔ سعودی کہنے لگا کہ آپ کے الشیخ سے بھی ملنے کی خواہش ہے لیکن سب سے پہلے میری اس امانت دار اور ذمہ دار کالر سے ملاقات کروائیں۔
سعودی گھر جانے کی بجائے عبدالستار قاسم کے ساتھ اس کالر کے پاس پہنچا۔ جومصری (مصر کا رہنے والا) تھا۔ مصری حجام کو کہا: 'بھائی، آپ جو بھی ہو۔ جیسے بھی ہو۔ یہ کام چھوڑو۔ آپ میرے گھر میں چلو آپ نے صرف میرے گھر میں رہنا ہے۔ کوئی کام نہیں کرنا۔ تنخواہ یہاں کی نسبت دو گنا دوں گا۔' سعودی نے عبدالستار قاسم صاحب سے پتا بھی لیا۔ اللہ تعالی نے اس مصری کو ایسی جزائےخیر دی کہ 12 گھنٹے ڈیوٹی کی جو تنخواہ لے رہا تھا اس سے دوگنا تنخواہ بلا مشقت حاصل کرنے لگا۔ اللہ رب العزت حافظ صاحب پر کروڑوں رحمت فرمائیں۔ تو یہ حافظ ثناءاللہ مدنی رحمہ اللہ کی دعا کی قبولیت اور مالکِ کائنات کی عنایت کا ایک حسین واقعہ ہے۔'
مغربی مسلمانوں کے روزمرہ مسائل اور ان کا شرعی حل
”اکتوبر 2002ء میں امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں مجمع فقہائے شریعت، امریکہ (Jurists of America Assembly of Muslim) کا تاسیسی اجلاس منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر سے اہل علم کو دعوت دی گئی۔ پاکستان سے شیخ الحدیث حافظ ثناءاللہ مدنی اور مولانا ارشادالحق اثری، فیصل آباد رکن کی حیثیت سے اس میں شامل ہوئے۔ مجمع کا مرکزی دفتر میری لینڈ میں قائم کیا گیا۔ اس اجلاس میں ایک کمیٹی تشکیل پائی جس کو ہمہ وقت شرعی سوالات کے جوابات دینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ مئی 2003ء میں امریکہ کی ریاست ’’کیلیفورنیا‘‘ کے شہر ’’ساکرا منٹو‘‘ میں بھی ایک اہم دعوتی کانفرنس تھی، جس میں محترم حافظ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ بھی شریک تھے۔ ’’مجمع‘‘ کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر صلاح صاوی سے ان کی ملاقات ہوئی تو انھوں نے محترم حافظ صاحب کو کمیٹی کی طرف سے صادر شدہ چند فتوے پیش کیے۔ حسن مدنی حفظہ اللہ نے ان کو ترتیب دیا اور مجلس التحقیق الاسلامی نے اس کا اردو ترجمہ شائع کیا۔“
یہ اقتباس نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ الشیخ کےعلمی قد و کاٹھ کے سبب ان کو بین الاقوامی کانفرنسز میں مدعوکیا جاتا تھا۔
فتاوٰی ثنائیہ مدنیہ جلد اول (کتاب العقائد)
الشیخ حافظ عبدالشکور مدنی حفظہ اللہ نے اس کو مرتب کیا۔ دارالارشاد نے شائع کیا تھا۔ کچھ عنوانات آپ کے سامنے رکھتا ہوں: 'قرآن مجید اور اس کے متعلقات- ”شریعت، قضاء اور تقدیر وغیرہ۔“ سیرت و شمائل و فضائل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث اور اصول حدیث- الادیان و الفرق اور عقائد- ”منکرین حدیث و سنت، تصاویر و تماثیل وغیرہ“- حلال و حرام اور ان کے متعلقات-” نذرونیاز، صدقہ وخیرات، ایصال ثواب اور حصول برکت کے اعمال وغیرہ“- ”دم، جادو، تعویذات اور توہمات وخیالات، بدعات و رسومات“- دورحاضر کے جدید مسائل اور ان کا شرعی حکم- ”حکومت، سیاست، قیادت و سیادت اور حکمران“۔ ۔ ۔ یہ جلد 887 صفحات پر مشتمل ہے۔ پیش لفظ حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے لکھا ہے اور مقدمہ اجتہاد و افتاء ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے تحریر کیا ہے۔
ابتدائیہ میں الشیخ لکھتے ہیں: ”مجموعہ فتاویٰ ہذ اربع صدی سے زائد میری کاوش محیط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فتاویٰ کا موضوع احکام شریعت کے نازک ترین مسا ئل میں سے ایک ہے جس پر لب کشائی سے قبل عدالت الہٰی میں جواب وہی کا تصور جمانا اہم فریضہ ہے۔ اس بناء پر مقدور بھر کوشش کی گئی ہے کہ جملہ سوالات کے جوابات کتاب و سنت کی نصوص پر مبنی اور سلف صالحین کے منہج و عمل کے مطابق ہوں۔ اس سلسلہ میں بعض اہل علم کے فتاویٰ سے بھی راہنمائی حاصل کی گئی جو اس میدان کے شہسوار اور اپنے ادوار میں مرجع خلائق سمجھے جاتے تھے۔
واضح ہو کہ میرے اس مجموع کی اشاعت 1970ء میں ”تنظیم اہلحدیث“ لاہور کی وساطت اور ماہنامہ ”محدث“ لاہور سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ جماعت کے جملہ جرائد اور مجلات میں پھیل کر اسے قبولیت عامہ حاصل ہوئی۔ والحمدللہ علی ذلک۔ بعد ازاں 1990ء سے باقاعدہ ہفت روزہ ”الاعتصام“ لاہور میں فتاویٰ جات تسلسل کے ساتھ اشاعت پذیر ہونے لگے جس کا تسلسل الحمدللہ آج تک قائم و دائم ہے۔
سوانحی خاکہ
فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد اول میں صاحبِ فتاویٰ کا سوانحی خاکہ بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مرتب لکھتے ہیں:
”شیخ مکرم ضلع لاہور کے ایک گاؤں ”کلس“ میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم ”سرھانی کلاں“ میں حاصل کی پھر حافظ عبداللہ روپڑی رحمۃ اللہ سے درس نظام کی تعلیم مکمل کی اور وہاں سے ”جامعہ اسلامیہ“ مدینہ منورہ سے ”کلیۃالشریعۃ“ سے سند فراغت امتیازی حیثیت میں حاصل کی۔ وہاں رہ کر شہرۂ آفاق اور عبقری اساتذہ کے سامنے زانوے تلمذطے کیا۔ ان میں سے مشہور یہ ہیں: مفتی اعظم سعودی عرب الشیخ ابن باز، محدث العصر صاحب تصانیف کثیرہ علامہ ناصر الدین الالبانی، شیخ المعقول و التفسیر الشیخ محمد امین الشنقیطی (رحمۃ اللہ علیہم ) صاحبِ تفسیر اضواء البیان، الشیخ شیبۃ الحمد، الشیخ عبدالمحسن العباد، الشیخ حماد الانصاری، الشیخ محمد بن امان علی وغیرہ۔
پاکستانی علماء اساتذہ میں سے حافظ عبداللہ محدث روپڑی، شیخ الاساتذہ علامہ حافظ محمد گوندلوی، شیخ المنقول والمعقول مولانا محمد عبدہ، (رحمۃ اللہ علیہم) مولانا عبدالغفار حفظہ اللہ سابق شیخ الحدیث مدینہ یونیورسٹی اور دیگر اساطین علمائے اہل حدیث سے مختلف علوم و فنون میں تکمیل حاصل کی۔ علاوہ ازیں پنجاب پونیورسٹی سے ایم اے عربی اور اسلامیات اعلیٰ پوزیشن میں پاس کیا۔
مختلف مدراس میں تدریسی خدمات:
مدینہ یونیورسٹی سے سند فراغت کرنے کے بعد اپنے گاؤں ”سرھالی کلاں“ میں تدریس کا کام کیا پھر اپنے استاذ حافظ عبداللہ روپڑی رحمۃ اللہ کی جگہ ”جامعہ اہلِ حدیث“ لاہور میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ لیکن کچھ عرصہ بعد ”جامعہ لاہور الاسلامیہ“ میں درس و تدریس میں مصروف رہے۔ چند سال بعد سعودیہ کی طرف سے پاکستان میں سب سے پہلے مبعوث ہو کر 1972ء سے "جامعہ سلفیہ" فیصل آباد میں متعین ہوئے۔ راقم نے بھی اسی سال آخری کلاس میں حافظ صاحب بعض اسباق پڑھے۔ یہاں کئی سال تک مدیرِ تعلیم اور شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔ بعد ازاں ”جامعہ لاہور الاسلامیہ“ میں بطور شیخ الحدیث متعین ہوئے اور ابھی تک یہاں اسی منصب پر فائز ہیں۔
تدریسی و تصنیفی خدمات:
شیخ محترم عرصۂ دراز سے چونکہ پاکستان میں اہلِ حدیث مکتب فکر کر مایۂ ناز دینی مدارس میں شیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے ہیں۔ اس لیے سینکڑوں طلبہ و طالبات اب تک حافظ صاحب سے حصولِ علم کر کے اندرون و بیرون پاکستان مختلف مدارس و مساجد اور اداروں میں تعلیمی، تحقیقی، تصنیفی اور تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً چالیس مرتبہ بخاری شریف سبقاً طلبہ و طالبات کو پڑھا چکے ہیں۔ وقتاً فوقتاً ملکی وغیر ملکی حالات کے پیش نظر مضامین بھی تحریر کرتے رہتے ہیں۔ ترمذی شریف پر عربی میں تعلیمات بھی مکمل ہوچکی ہیں جس کا نام "جائزة الاحوذى فى التعليقات السلفية على سنن الترمذى" ہے۔ جو کہ چار مجلدات پر مشتمل ہے۔ عنقریب زیور طبع سے آراستہ ہوکر منصۂ شہود پر آرہی ہے۔
تبلیغی و رفاہی خدمات:
استاذ المکرم اپنے آبائی گاؤں "سرھالی کلاں" اور ضلع قصور کے متعدد دیہات میں دعوتی، تبلیغی، سماجی اور رفاہی کام انجام دے رہے ہیں۔ تقریباً پچاس سال سے اسی گاؤں میں مسلسل خطبۂ جمعہ بھی دے رہے ہیں۔ یہاں کئی کنال پر مشتمل ایک بڑی مسجد جس کا بلند مینار کئی کلومیٹر دور سے نظر آتا ہے جو انہی کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ اس مسجد کے ہال اور صحن میں ہزاروں لوگ بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ ہر ماہ حافظ صاحب کی سرپرستی میں متعدد دیہات میں ہفتہ وار اور ماہانہ دعوتی اور تبلیغی اجتماعات وغیرہ کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح رفاہی اور سماجی کاموں کے طور پر علاقے کے دیہات میں بسنے والے غرباء و مساکین، یتامیٰ، بیوگان، مستحق افراد اور گھرانوں کی مالی معاونت کی جاتی ہے۔ بطورِ ثالث اور حکم بھی مختلف تنازعات، اختلافات اور جھگؑڑوں وغیرہ میں حافظ صاحب کے فیصلوں اور آراء پر عمل کیا جاتا ہے۔ آج کل لاہور میں ایک دینی کمپلیکس کی تعمیر بڑی تیزی سے جاری ہے اس کا نام "مركز انصار السنة" ہے جس میں دینی درسگاہ، افتاء تصنیف و تالیف، تبلیغی اور رفاہی و سماجی کاموں کو انجام دیا جائے گا۔"
مرتب نے عمدہ اسلوب میں الشیخ کا سوانحی خاکہ بیان کیا ہے۔
"فتاویٰ حافظ ثناءاللہ مدنی" کے نام سے بھی الشیخ کے فتاویٰ شائع ہوئے۔ "مكتبة انصار السنة النبوية لاہور" ناشر ہے۔ طہارت اور صلاۃ (نماز) پر مشتمل ہے۔ یہ جلد 883 صفحات پر مشتمل ہے۔
کتابیات:
فتاویٰ ثنائیہ مدنیہ جلد اول
فتاویٰ حافظ ثناءاللہ مدنی
مغربی مسلمانوں کے روزمرہ مسائل اور ان کا شرعی حل
ماہ نامہ محدث
ہفت روزہ الاعتصام
عظیم محدث رخصت ہوا