ٹین ایجر
لاابالی ٹین ایجر کے والد کو اس کی تربیت کی فکر تھی۔ فکر مند والد نے کالج کے اسٹوڈنٹ کو قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے کی طرف توجہ دلائی۔ والد نے جامع مسجد اہل حدیث شکار پوری گیٹ بہاول پور کے خطیب سے یہ ذمہ داری نبھانے کی گزارش کی۔ نوجوان روزانہ گلزار صادق کی سنگل سڑک پر موٹر سائیکل بھگاتا اور مسجد میں حاضر ہوتا۔ چٹائی پر بیٹھتا اور ترجمہ کا سبق لیتا۔ خطیب، مدینہ یونیورسٹی کے فاضل تھے اور سعودی عرب کی جانب سے مبعوث تھے۔ انداز تدریس جاذب تھا۔ نوجوان کے دل میں قرآن مجید کی محبت جڑ پکڑنے لگی۔ نوجوان کو کائنات کی عظیم ترین اور بہترین کتاب سے الفت ہونے لگی۔ قرآن مجید کی روشنی میں دنیا کو دیکھنے کی سوچ ذہن میں در آئی۔ کچھ عرصہ بعد مبعوث خطیب و مدرس کی ذمہ داری پنجاب یونیورسٹی میں لگا دی گئی۔ لیکن نوجوان توفیق الٰہی سے ترجمہ اور قرآن فہمی کی راہ سے جڑا رہا۔
پھر نوجوان نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ تعلیمی مصروفیات بڑھی تو نوجوان خود ہی قرآن مجید کھول کر ترجمہ پڑھتا۔ نوجوان قرآن مجید سے تعلق کی راہ پر ایسا گامزن ہوا کہ مہ وسال بیتے اور وہ نوجوان طالب علم درس قرآن دینے کے قابل ہوا۔ سورۃ الناس سے سورۃ آل عمران تک کا ترجمہ و توضیح خطبات جمعہ میں بیان کرچکا۔ نوجوان طالب علم آج اپنے والد محترم اور استادِ محترم دونوں کا شکر گزار ہے۔
لگ بھگ 26 یا 27 برس بعد (فروری 2021ء میں) وہ نوجوان طالب علم جو کہ اب ادھیڑ عمر میں پہنچ چکا، قرآن فہمی کے اولین استاد کی خدمت میں حاضر ہوا۔ استاد کا نام پروفیسر عبد الرحمن طاہر حفظہ اللہ ہے اور وہ نوجوان طالب علم اس تحریر کا لکھنے والا ہے۔ استاد محترم کو لاہور پہنچ کر فون کیا۔ استاد محترم سے ملاقات کے لئے وقت طلب کی تو استاد محترم نے شفقت کے ساتھ خوش آمدید کہا۔ اگلے روز استاد محترم کے گھر پہنچا تو استاد محترم رہ نمائی کے لئے گھر سے باہر موجود تھے۔ چوڑا سینہ اور مضبوط جسم ویسے ہی تھا۔ کمر، بڑھاپے کی تند ہوا کی زور سے کچھ جھک رہی تھی۔ آواز میں گرج تاحال جوانی کی یاد دلاتی تھی۔ لہجے کی شگفتگی اور شفقت برقرار تھی۔ استاد محترم نے مہمان خانہ میں بٹھایا اور تواضع کی۔
مصباح القرآن
استادِ محترم برسوں سے پنجاب یونیورسٹی سے منسلک رہے۔ سعودی وزارت اسلامی امور کی جانب سے مبعوث تھے۔ گزشتہ برس اس ذمہ داری سے ریٹائر ہوئے۔ الشیخ عرصہ دراز سے قرآن مجید کی ترجمہ اور تسہیل پر کام کر رہے ہیں۔ بیت القرآن کے زیر اہتمام مصباح القرآن کے نام سے عمدہ سلسلہ مرتب کیا۔ میرا تعارف مصباح القرآن سے اس کی اشاعت کے ابتدائی برسوں میں اردو بازار کے توسط سے ہوا تھا۔ الشیخ نے اس کے کچھ نسخے مجھے تحفتاً بھی ارسال کئے تھے۔
تین رنگوں کی مدد سے گرامر کے بغیر صرف علامات کے ذریعے ترجمہء قرآن کا منفرد انداز اختیار کیا گیا ہے۔ حالیہ مجلد ایڈیشن میں ایک صفحہ پر خانوں میں لفظی ترجمہ اور حاشیے میں مشکل لفظوں کی وضاحت دی گئی۔ اس کے مقابل دوسرے صفحہ پر بامحاورہ ترجمہ ہے اور حاشیے میں قرآنی الفاظ کے اردو استعمال کی وضاحت کی ہے۔ الشیخ عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ اور الشیخ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ نے تقریظ رقم کی ہیں۔
قرآن فہمی کا آسان ذریعہ
عرض مرتب میں استاد محترم نے مصباح القرآن کے آغاز کی داستان ذکر کی ہے۔ استاد محترم یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ قرآن کے الفاظ تین اقسام پر مشتمل ہیں۔ اکثر الفاظ ہم روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں اور ایسے الفاظ کم و بیش 65 فیصد ہیں، ان کو سیاہ رنگ سے ظاہر کیا گیا ہے۔ کچھ الفاظ اردو میں استعمال نہیں ہوتے لیکن کثرت استعمال کے باعث خود بخود یاد ہو جاتے ہیں جو اندازاً 20 فیصد ہیں ان کو نیلے رنگ سے ظاہر کیا ہے۔ تیسری قسم کے بہت کم الفاظ ہیں جو نئے اور خالص عربی الفاظ ہیں، جو تقریباً 15 فیصد ہیں اور ان کو سرخ رنگ سے ظاہر کیا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ 2001ء میں صاحب خیر، طالب علم کے مشورے اور تعاون سے ”بیت القرآن“ کی داغ بیل ڈالی گئی۔
رضوان طاہر
استادِ محترم کے بیٹے رضوان طاہر بھی حسن اتفاق سے ان دنوں جدہ سے پاکستان آئے ہوئے تھے۔ رضوان بھائی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ گلشن اقبال کراچی میں پڑھتے رہے، جن دنوں میں بھی یک سالہ تعلیم کے لئے وہیں تھا۔ جامعہ اور اس کی حسین یادوں کا تذکرہ ہوا۔ رضوان بھائی نے اپنے ساتھی طلبہ میں سے فراز الحق، عبد الحسیب الحسن، انتیاز عبدل وغیرہ کا ذکر کیا۔ کچھ مشورے ہوئے۔ سوہن حلوہ سے لطف اندوز ہوئے اور حدیث: كانَ رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يُحِبُّ الحَلْوَاءَ والعَسَلَ. ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الحلوا (میٹھی چیز) Sweet Dish اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے۔“ صحیح البخاری: 5431۔" کا تذکرہ ہوا۔
قرآنی قاعدہ
استادِ محترم نے ملاقات میں قرآنی قاعدہ کے پانچ حصے بھی طالب علم کو عطا کئے۔ یہ بھی استاد محترم اور بیت القرآن کی ریسرچ اسکالرز ٹیم کی دیدہ زیب کاوش ہے۔ پہلے حصے میں حروف تہجی Alphabets کے اعتبار سے آسان قرآنی الفاظ کو اردو و انگلش ترجمہ اور تصاویر کے ساتھ بچوں کے لئے دل کش پیش کیا گیا ہے۔ رنگ بھرنے، لکھائی اور مشق سے قاعدے کو مزید اثر انگیز Effective بنایا گیا ہے۔ یہ سیریز ابتدائی کلاس کے بچوں کے لئے قرآنی فہمی کی جانب ابتدائی اور بنیادی قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
مشاورت اور تبادلہ خیال
استادِ محترم کے حکم پر بیت القرآن کے دفتر حاضر ہوا تاکہ بیت القرآن کے حوالے سے مشاورت اور تبادلہ خیال ہوا۔ جیل روڈ پر واقع دفتر میں 10:30 صبح پہنچا۔ عمران سعید اور مدثر حجازی اور بھٹی صاحب موجود تھے۔ تعارف ہوا، بیت القرآن کی مطبوعات اور عوام الناس تک ان کی ترسیل کے حوالے سے مشاورت ہوئی۔ سوشل میڈیا پر موجودگی کو مؤثر بنانے کے حوالے سے بات ہوئی۔ استاد محترم بھی تشریف لے آئے۔ میں نے اجازت چاہی۔
قرآن مجید کی تفہیم اور تسہیل کے حوالے سے استاد محترم کی سرپرستی میں بیت القرآن کی کاوشیں دیکھ کر فرحت و انبساط کی لہر رگ و پے میں دوڑ گئی۔ دعا کی ، کہ اللہ رب العالمین بیت القرآن کے تمام کی ٹیم اور معاونین کو صاحب قرآن کی صف میں شامل کر لے۔ جو لوگ اللہ رب العالمین کے کلام کی طرف دعوت کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ آمین یارب العالمین!
بیت القرآن تک