تحریر

(محترم عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ (دیدہ ور، صاحبِ فکر، مثلِ قمر

(محترم عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ (دیدہ ور، صاحبِ فکر، مثلِ قمر
سانحہ کی خبر:
میں برقی سیڑھوں Escalators پر قدم رکھتا ہوا حمامات Washroomsسے نکلا اورمسجدالحرام کے صحن میں داخلہ ہوا۔ صلاۃ مغرب میں چند منٹ باقی تھے۔ موبائل کی حرکت نے متنبہ کیا۔ سکرین پر نگاہ ڈالی تو محمد بن طارق کا نام سا منے آیا۔ انگلی کی حرکت سے دبایا تو ”السلام علیکم!“ کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔ میں نے ”وعلیکم السلام!“ کہا۔ کہنے لگے، ”ایک افسوس ناک خبرسنانی ہے، عبدالرشید اظہرصاحب فوت ہوگئے۔“ میں نے بے یقینی کی کیفیت میں تفصیل دریافت کی تو کہنے لگے کہ کچھ خبر نہیں۔ میں بابِ بلال کے مسقف حصہ میں پہنچا اور محترم عبدالرحمٰن شارق (بہاول نگر) اور محترم عبدالرحمٰن (جامعہ اسلامیہ، مدینہ) کو موبائل سے پیغام ارسال کیا اور خبر کی تصدیق چاہی۔ دونوں طرف سے چند منٹ میں تصدیق ہوگئی۔ میری آنکھیں بھر آئیں۔ آنسو رواں ہو گئے۔ دل میں چوٹ لگی اور یوں محسوس ہوا جیسے سر پر پہاڑ آ گرا ہے۔ پیکرِ علم وعمل محترم حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ کی وفات کے صدمے سے ابھی سنبھلنے نہ پائے تھے کہ اس دکھ نے دل گیر کر دیا۔ وہ میرے قرابت دار تو نہ تھے، نہ طویل مدت ان سے صحبت کا شرف رہا۔ لیکن میرے لیے وہ بہت کچھ تھے: مربی، مشفق، رہبر، محسن، عالم، مفتی، ناصح۔۔۔
صلاۃ عشاء کے بعد بابِ بلال کے مسقف حصہ تلے، تہہ خانہ کی سیڑھوں کے پاس ہم لوگ بیٹھے تھے اور ان کو یاد کر رہے تھے۔ محمد بن طارق (متعلم جامعہ اُم القریٰ)، محمد امجد صاحب اور راؤ اسلم صاحب، ان کے حوالے سے اپنی یادیں سنا رہے تھے۔ 1432ھ کے حج میں وہ بطورِ داعی سعودی عرب بلائے گئے تھے، اس لیے یہاں بسنے والے احباب سے ملاقات تازہ تھی۔
کچھ احباب کو SMS سے اطلاع دی۔ تو جوابی فون کالز موصول ہونا شروع ہو گئیں۔ محترم حافظ اقبال راشد (الریاض) کا فون موصول ہوا، واقعہ کی تفصیلات دریافت کرنے لگے اور پھر آپ کی خدمات کا تذکرہ کرتے رہے۔ محترم اقبال کیلانی حفظہ اللہ (مؤلف تفیم، السنہ) کی طرف سے کال موصول ہوئی، گفتگو کرتے وقت شدتِ غم سے میری زبان لڑکھڑا گئی۔ آپ فرمانے لگے کہ موصوف علمی شخصیت تھے اور مجتھد کے درجہ پر فائز تھے، مرحوم کے اہلِ خانہ سے تعزیت کے لیے مجھ سے ان کا نمبر طلب کیا۔
رات گئے تک میں افسردہ رہا۔ صبح پاکستان واپسی تھی۔ ائیرپورٹ پہنچ کر معلوم ہوا کہ محترم ارشادالحق اثری حفظہ اللہ بھی سعودی ائیرلائنز میں میرے ہمسفر ہیں۔ انہی کی زبانی یہ خبر بھی ملی کہ الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کے برادر کبیر محترم عبدالستار اور داماد محترم عبد اللطیف بھی اسی فلائٹ سے واپس لوٹ رہے ہیں، اور رات تک خانیوال پہنچ کر صلاۃِ جنازہ میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ محترم ارشادالحق اثری حفظہ اللہ ہی کے تو سط سے ائیرپورٹ لاؤنج میں تعارف ہوا اور تعزیتی کلمات کہے۔ فنی خرابی کی بناء پر جہاز چھ گھنٹے تاخیر سے روانہ ہوا۔ اس دوران محترم اقبال کیلانی حفظہ اللہ کا پھر فون آیا تو میں نے محترم عبد الستار حفظہ اللہ کے بارے میں بتلایا۔ تو مجھے فرمانے لگے کہ بات کروائیے۔ کافی دیر محترم عبدالستار حفظہ اللہ سے تعزیت کرتے رہے اور پھر بعد میں مجھے فرمانے لگے کہ اب دل کو کچھ تسلی ہوئی ہے۔ (اظہر صاحب کے چاہنے والوں کی فہرست طویل تر ہے اور اس میں بہت سے باکمال لوگ شامل ہیں۔)
جہاز کی روانگی میں تاخیر کی وجہ سے یہ احباب جنازہ میں شرکت نہ کرسکے۔ واپس پہنچا تو رسائل و جرائد میں الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کی خدمات کا تذکرہ اور آپ کے جنازہ کا احوال پڑھا۔ چند روز بعد برادرمسعود اظہر حفظہ اللہ (خانیوال) سے اوربرادر محمود اظہرسے بذریعہ فون تعزیت کی۔ محمود کا چند روز قبل ہی جامعہ اسلامیہ مدینہ میں داخلہ ہوا تھا، والد کی وفات پر چھٹی لے کر پاکستان آیا اور چند روز قیام کے بعد مدینہ لوٹ گیا۔ تادم تحریر دو افراد قصور سے گرفتار کر لیے گئے ہیں اور انھوں نے اعترافِ جرم کر لیا ہے۔ لیکن اس کے بعد تفتیش کی سست روی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاملات کو دبایا جا رہا ہے۔
تعلق کی ابتداء:
الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کی محبت کے سبب قلم اٹھایا، متذبذب ہوں کہ ابتداء کہاں سے کروں اور انتہا کہاں پر کروں۔ الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کا نام تو شاید اس وقت سنا تھا جب میں جامعہ اسلامیہ عالمیہ اسلام آباد میں زیرِ تعلیم تھا اور آئی ٹین میں واقع ہاسٹل میں رہائش پذیر تھا۔ شاید محترم عبیدالرحمن محسن حفظہ اللہ (دارلحدیث راجووال) کی زبانی سنا تھا، جو کہ ان دنوں جامعہ میں ہمارے ساتھی تھے۔ خیر ان ایام میں ملاقات نہ ہوسکی اور یہ یقیناً میرے لیے احساسِ محرومی ہے۔
رخِ زیبا اس وقت دیکھا جب 17 جولائی 2002ء کو آپ نے ”اہل حدیث کے امتیازات“ کے موضوع پر سعودی جامعات میں زیر تعلیم طلبہ اور مقامی مدارس میں زیرِ تعلیم طلبہ کی تربیتی ورکشاپ منعقدہ جامعہ لاہور اسلامیہ میں خطاب کیا۔ اسی روز دوپہر کو آپ کو برادرمسعود اظہر کے ہمراہ سیڑھیوں سے اترتے دیکھا۔ پھر آپ سے باب الرحمہ (مسجد نبوی) کے باہر ملاقات ہوئی۔ میں نے تعارف کروایا اور بتلایا کہ میں نے آپ کو اپنی تصنیف ارسال کی تھی، آپ نے شفقت سے میرا کندھا تھپتھپایا۔ میں نے عرض کی ”محترم یہ ڈانٹ ہے یا شاباش“ کہنے لگے ”شاباش“۔ آپ سے محبت کا سنگِ بنیاد شاید اسی وقت پڑا تھا۔
غالباً یہ 2004ء کے اوائل کے دن تھے اور آپ حج کے لیے تشریف لائے تھے۔ اس رات میں اور سعید شاہ حفظہ اللہ (کراچی) محترم ساجد میر اور آپ کو نوافل کی ادائیگی کے لیے مسجد قباء لے گئے۔ اس رات محترم ساجد میر حفظہ اللہ سے بہت استفسارت کئے آپ نے تسلی بخش جواب دئیے۔ ایک سوال کے جواب میں فرمانے لگے، ”ڈاکٹر صاحب سے رائے لیتے ہیں۔“ یہ بات محترم ساجد میر حفظہ اللہ کی وسعت قلبی اورالشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کے تبحر علمی پر دلالت کرتی ہے۔ بہرحال واپسی پر پاکستان ہاؤس کے باہر گاڑی روکی، دونوں مہمان روانہ ہوئے اور یہ یادگار ملاقات اختتام کو پہنچی۔
بہاولنگر آمد:
جامعہ اسلامیہ سے واپسی کے بعد آپ سے گاہے گاہے فون پر رابطہ رہا۔ میں آپ سے شرعی مسائل کا حل جاننے کے لیے رابطہ کرتا رہتا، شا ید ہی آپ نے کبھی فون کا جواب نہ دیا ہو۔ شاید ہی کبھی کہا ہو کہ ابھی میں مصروف ہوں بعد میں فون کرلینا اور آپ کے سا تھ قربت کی یہ ایک یقینی وجہ تھی، باالفاظِ دیگر آپ میرے لیے ”ہمہ وقت دستیاب متبحر عالم“ تھے۔ آپ سے تعلق میں مزید مضبوطی اس وقت آئی جب آپ کو اپریل 2007ء میں سیرت کا نفرنس بہاول نگر میں شرکت کے لیے دعوت دی۔ کانفرنس سے قبل اور بعد کچھ وقت علماء کی مجلس میں گزارنے کا موقوع ملا۔ اس رات ہم تا صلاۃ فجر الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ سے علمی استفسارات کرتے رہے۔ نشست میں والدِ محترم اور برادر خورد بھی موجود تھے۔ تجارتی مسائل پر بالخصوص استفادہ کیا۔
غالباً ”استصناع“ کے مسئلہ پر الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کو ہم سمجھا نہ پائے اور اپنی رائے پر اصرار کیا تو الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے سعودیہ کے صاحبِ ثروت کا واقعہ ذکر کیا جو خالد سیال صاحب اپنے مضمون ”علامہ ڈاکٹر حافظ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ ، جو بھلائے نہ جا سکیں گے“ محدث مئی 2012ء میں بیان کر چکے ہیں۔ خا لد صاحب کے الفاظ میں تحریر کئے دیتا ہوں: ”یہ غالباً سعودی عرب کے تاریخی شہر جدہ کا واقعہ ہے۔ حافظ صاحب اپنے بچوں سمیت وہاں مقیم تھے، وہاں کے ایک دولت مند پاکستا نی کو سعودی عرب میں آپ کی موجودگی کا علم ہوا تو آپ سے رابطہ کرکے اپنے گھر میں ناشتے کی دعوت دی۔ ان کے بے حد اصرار کے باعث ڈاکٹر صاحب نے یہ پیشکش قبول کر لی۔ اگلے روز نا شتے پر انواع و اقسام کے ماکولات اور مشروبات جمع تھے۔ ناشتہ شروع ہوا تو میزبان نے انشورنس کے مسئلے پر ڈاکٹر صاحب کی را ئے معلوم کرنا شروع کر دی۔ ڈاکٹر صاحب نے قرآن و حد یث کی روشنی میں ان کو بتایا کہ انشورنس کی موجودہ صورت جائزنہیں۔۔۔۔۔۔ میزبان نے چونکہ چنا نچہ کا سہارا لے کر پھر دریافت کیا کہ اس کے جواز کی کوئی صورت نکل سکے۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو متعد بار بتایا کہ میرے علم کے مطابق یہ جائز نہیں مگرصا حبِ دستر خوان پینترے بدل بدل کر سوالات اٹھاتے رہے۔ جب حافظ صاحب نے یہ محسوس کیا کہ میزبان مجھ سے انشورنس کے جواز کا فتویٰ لینا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر صاحب یہ کہتے ہوئے دسترخوان سے اٹھ کھڑے ہوئے کہ آپ نے دسترخوان پر جو اہتمام کیا ہے میں اس کا خرچ آپ کو ادا کرسکتا ہوں، یہاں سعودی عرب میں میرے رہنے کی جگہ بھی ہے مگر آپ کو انشورنس کے جواز کا فتویٰ نہیں دے سکتا۔“ بہرحال ہم نے پھر اپنی سی کوشش کی اور الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کو تصورِ مسئلہ بیان کیا، اب الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے وسعتِ دل سے اپنی رائے میں تبدیلی کو بیان کر دیا۔
اگلے روز الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کو چھوڑنے کے لیے ڈرائیور کے ساتھ میں بھی خانیوال، جامعہ سعیدیہ گیا۔ تمام راستے الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ سے استفادہ ہوتا رہا۔ اظہر صاحب سے ”جملہ حقوق بحق مؤلف محفو ظ ہیں۔“ کے بارے میں پو چھا۔ الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ، جاوید غامدی کے ساتھ اپنے ٹی وی پروگرامز کا ذکر کرنے لگے اور بتایا کہ کس طرح موصوف آپ کے سامنے انکارِ حدیث سے ”پرہیز“ فرماتے رہے۔ الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ جاوید غامدی سے گفتگو کرنے کے لیے مجھے ہی آگے کیا جاتا اور اللہ عزوجل نے الحمدللہ ہمیشہ ظفریاب ہی کیا ہے۔
آپ نے اپنے بیرونی اسفار کا بھی ذکر کیا۔ جس میں غالباً انڈونیشیا کے سفر کی کچھ تفصیل بھی بیان کی۔ آپ صرف اپنی سنانے کے عادی نہ تھے، بلکہ میری داستان بھی دلچسپی سے سنتے رہے، میں نے اپنی غیرملکی اسفار میں پیش آنے والے دلچسپ واقعات آپ کو سنائے۔ جب میں نے سفرِ اردن کے بارے میں بتایا کہ ایک پینٹ شرٹ میں ملبوس خاتون نے بے تکلفی سے مصافحہ کے لیے ہاتھ میری طرف بڑھایا، تو میں نے انگریزی میں اس کو واضح کردیا کہ میں اس محروم ہی بھلا تو آپ محظوظ ہوئے۔ الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے اپنے گاؤں جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ کچھ دیر ہم گاؤں ٹھہرے اور کھانا تناول کیا۔ راستہ میں کسی جگہ پر صلاۃ کی ادائیگی کی۔ جامعہ سعیدیہ پہنچے تو برادر مسعود اظہر نے ہماری مہمان نوازی کی۔ پھر الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے مسجد اور مدرسہ دکھلایا۔
کچھ یادیں:
اپر یل، مئی اور جون 2007ء میں محترم خالد سیال نے ماہنامہ شہادت میں الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کا انٹرویو شائع کیا۔ پڑھ کر حظ اٹھایا۔ الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ سے گزارش کی اس کو کتابی شکل دیں۔ کہنے لگے کہ اگر آپ جیسا کوئی اہلِ خیر آمادہ ہے تو کر دے۔ میں نے حامی بھر لی۔ وہ انٹرویو Scan کرکے کمپیوٹر میں منتقل کیا۔ کمپوزر Composer سے اس کو ازسرِنو کمپوز کروایا اور الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کو بھیج دیا۔ پھر ان سے چھاپنے کی اجازت چاہی تو کہنے لگے کہ خالد سیال یہ کام خود کرنا چا ہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ کوئی حرج نہیں۔ پھر میں نےالشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ سے گا ہے بگاہے اس کے بارے میں دریافت کیا لیکن وہ طرح دے گئے۔
آخری بار جب مارچ 2011ء میں ان سے ملاقات ہوئی، تو میں نے پھر دریافت کیا تو کہنے لگے؛ ”خالد صاحب نے مسودہ مجھے دے رکھا ہے بس وقت نہیں نکال پا رہا۔“ میں نے پوچھا؛ ”وقت کب نکلے گا؟“ تو کہنے لگے؛ ”آپ جیسا کوئی ساتھی یاد کرواتا رہے تو یہ کام بھی ہوجائے گا،“ میں نے کہا؛ ”کتنی بار یاددہانی کافی رہے گی؟“ کہنے لگے؛ ”تین سے چار بار۔“ میں نے چند روز بعد اس یاد دہانی کو SMS کی صورت میں موبائل میں تحریر کیا اور الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ کو بھیج دیا اور پھر کچھ ہفتوں کے و قفے سے ارسال کرتا رہا اب بھی وہ میسج میرے موبائل میں محفوظ ہے۔ 2008ء میں ادائیگیِ حج کے لیے سفرِ حجاز کا ارادہ کیا تو اظہر صاحب کو آگاہ کیا تو مجھے اپنے بھتیجے اور داماد عبدالوکیل کے بارے میں کہا کہ اس سے وہاں ملاقات کریں، اور ایک ذمہ داری ادا کرنے کو کہا۔ رابطہ ہوا برادر عبدالوکیل آئے، بعد نمازِ مغرب مسجد نبوی کی چھت پر ان سے گفتگو ہوتی رہی۔
پھر آپ کو 14مارچ 2009ء کو سیرت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جو آپ نے قبول کرلی، انھی ایام میں ججز کی بحالی تحریک بھی عروج پر تھی اور اسلام آباد کی طرف مارچ جاری تھا، حالات کے پیشِ نظر کانفرنس منسوخ کرنی پڑی، اظہر صاحب اسلام آباد سے خانیوال پہنچ چکے تھے، ہماری نادانی پر سرزنش کی، کیونکہ چند روز قبل وہ ہمیں تنبیہ کر چکے تھے۔
چند سال قبل کی بات ہے میں اسلام آباد گیا تو الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ سے ملاقات کی اجازت چاہی آپ نے وقت دیا اور حسبِ روایت پھلوں سے مہمان داری کی۔ شام کو میں نے پھر فون کیا کہ اہلیہ کے ساتھ حاضر ہونا چاہتا ہوں۔ الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے پھر اجازت دی اور اہلیہ نے کچھ وقت ان کے اہلِ خانہ کے ہمراہ گزارا اور ان کے اہلِ خانہ کی سادگی کو سراہتی رہیں۔ اپنی بچیوں کی تعلیم اور حفاظت کے بارے میں غایت درجہ محتاط تھے۔ ایک مرتبہ مکتب الدعوۃ میں کسی مدرسہ کی غیر ذمہ دار ناظمہ کی آمد بیان کی اور اس کا غیر ذمہ دارانہ کلام نقل کیا اور اس حوالہ سے کبیدہ خا طر تھے۔
”اعجاز صاحب اس دفعہ سفرِ عمرہ میں آپ بہت یاد آئے اور ہر جگہ پر یاد آئے۔“ آواز میں شوخی تھی، ایک دن موبائل پر کال موصول ہوئی، میں نے کہا؛ ”محترم خیر تھی؟ “انھوں نے پھر اپنا جملہ دہرایا پھر کہنے لگے؛ ”آپ نے چاول کا جو گفٹ پیک دیا تھا اس کو خالی کرکے میں ساتھ لے گیا۔ اس میں اپنا جوتا رکھتا تھا۔ دور سے نمایاں رہتا تھا، اور یوں آپ یاد آتے رہے۔“
ایک بار فرمانے لگے؛ ”خطبات کو کتابی صورت میں پیش کرنا مشکل کام ہے۔ بعض خطبات کتابی صورت میں سامنے آئے تو اگر خطیب نے کہیں ڈانٹ بھرا جملہ جوش میں کہہ دیا تو وہ من وعن شائع کردیا گیا ہے۔ حالانکہ تقریر اور تحریر دونوں کے اسلوب میں فرق ہے، “ پھر انھوں نے نام لے کر ایک مثال دی۔ پھر فرمانے لگے؛ ”اس وجہ سے میں نے اپنے خطبات کی کتابی شکل دینے سے احتراز کیا ہے، کہ مجھے اتنی فرصت نہیں، اگر کوئی فنِ تحریر کے اسلوب سے واقف فرد یہ ذمہ داری لے تو پھر یہ ممکن ہے۔“ امید ہے برادر مسعود اظہر اس امر کو بھی پیشِ نظر رکھیں گے۔ آپ کے آڈیو خطبات کو ویب سائیٹ پر منتقل کرنے کے بارے میں موصوف مصروفِ عمل ہیں۔
آپ کا بابصیرت ہونا بھی کوئی مخفی امر نہ تھا۔ چند برس پیشتر محترم ابو خزیمہ محمد حسین ظاہری حفظہ اللہ (اوکاڑہ) نے اہلِ حدیث علماء کی مجلس بلائی، اور ایک مستحسن قدم اٹھایا۔ اس میں غالباً محترم حافظ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ کو صدر منتخب کیا گیا تھا اور آپ سیکرٹری تھے۔ جماعتی جرائد میں خبر شائع ہوئی۔ میں نے آپ کو فون کیا اور خوشی کا اظہار کیا تو کہنے لگے مجھے اس کا مستقبل روشن نظر نہیں آتا پھر ایک وجہ بھی بیا ن کی۔ کئی برس بیت گئے اور مذکورہ مجلس کے بارے میں یہ یہی ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کی پیشین گوئی درست تھی۔ (اللھم ارحم علی حالنا)
ایک مرتبہ فرمانے لگے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ میں ٹی وی پروگرامز میں مداہنت سے کام لیتا ہوں۔ میں کہتا ہوں ایسا کرنا ثابت ہوجائے تو کوئی اور سزا نہیں میری زبان کاٹ دی جائے میں تیار ہوں۔ ایک بار ذکر فرما رہے تھے کہ ایک ٹی وی پروگرام میں ”کیا دینی مدارس اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟“ کے موضوع پر مباحثہ تھا۔ میں نے اور راجہ ظفرالحق صاحب نے مدارس کا دفاع کیا، اس دن راجہ ظفرالحق نے مجھ سے بھی بہتر انداز میں مدارس کا دفاع کیا۔ یہ آپ کی وسعت ظرفی تھی کہ آپ دوسروں کی خوبیوں کو تسلیم کرتے تھے۔ محترم عبدالحمید ازہر حفظہ اللہ سے دوستی بہت گہری تھی اور ان کی علمیت کے معترف بھی تھے۔
ایک بار کسی توسط سے ایک خاتون نے مشروط طلاق سے متعلق ایک فتوٰی کے لیئے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ سے گزارش کی تو آپ تحریری فتوٰی مجھے ارسال کردیا۔ 2006ء کے اس فتوٰی کی نقل میرے پاس محفوظ ہے۔ المجلس الاسلامی باکستان، قسم الافتاء والارشاد، الجامعۃ السعیدیہ خانیوال کے رسمی ورق پر تحریر کردہ اس فتوٰی پر مفتی المجلس کے طور پرمحترم حافظ عبدالحمید ازہر اور رئیس المجلس کے طور پر محترم ڈاکٹر حافظ عبدالرشید کے دستخط ثبت ہیں۔
چند ماہ قبل رات کو فون کال موصول ہوئی: ”اعجاز صاحب، گاڑی نے آپ کے شہر کی طرف رخ کرلیا تھا،“ میں نے کہا ”پھر آپ گاڑی پر زیادتی نہ فرمائیں اور تشریف لے آئیں۔“ کہنے لگے: ”پھر کبھی سہی۔“ میں نے کافی اصرار کیا، لیکن نہ مانے۔ آپ کسی قریبی عزیز کی شادی کے لیے پاکپتن یا بورے والہ کے آس پاس اپنی منزل پر پہنچنا چاہتے تھے۔
طلبہ کی حوصلہ افزائی، احباب کی عزت افزائی اور ہم جیسوں نا کاروں کی پذیرائی کرتے۔ جس سے محبت اور خود اعتمادی کا شجر پھلتا پھولتا رہا۔ سادگی پسند تھے، پروٹوکول وغیرہ سے کوسوں دور۔ فوری طور پر آپ سے گفتگو اورملاقات ممکن تھی۔ نخرے سے گریز کرتے تھے۔ مدارس دینیہ کے خلاف یلغار کے سامنے سینہ سپرتھے۔ ایک بات جو اکثر کہا کرتے تھے، ”علماء کے پاس عزت کے علاوہ ہے ہی کیا؟“ مراد یہ تھی کہ دنیاوی مال و متاع سے یہ تہی دامن ہیں۔ ان کی عزت و اکرام لازم ہے اور وہی باعثِ فرحت و سببِ تسکین ہے۔ ایک دفعہ آپ کے پاس حاضر تھا، اور آپ کا موبائل غالباً کھوگیا تھا۔ جس میں کئی سو افراد کے نمبرز تھے، کہنے لگے ”اعجاز صاحب دیکھیں ایک دن میں 50 سے 60 لوگوں نے رابطہ کرلیا ہے۔ اور باقی چند دن میں کرلیں گے،“ گویا کہ اہلِ علم کی فضیلت کی طرف اشارہ کر رہے تھے، لوگ اہلِ علم سے رجوع کرتے ہیں اور وہ مرجع خلائق ہیں۔
آخری بالمشافہ ملاقات:
میں غالباً مارچ 2011ء میں کاروباری سلسلہ میں اسلام آباد پہنچا، شام کو محترم اظہر صاحب سے حاضری کی اجازت چاہی، آپ نے بخوشی دے دی۔ آپ کے گھر پہنچا، آپ نے مہمان نوازی کی۔ آپ سے استفادہ کرتا رہا۔ کہنے لگے ”کھانا میرے ساتھ کھائیں،“ میں نے کہا ”مجھے ایک دو اشخاص سے ملنا ہے۔“ کہنے لگے، ”آپ جلدی فارغ ہوجائیں تو آجائیں۔“ میں گاڑی میں بیٹھا ایک اور عالم سے رابطہ کی کوشش کی، رابطہ ہوا تو کہنے لگے، ”میں سیرت کانفرنس میں شریک ہوں، ملاقات ممکن نہیں۔“ میں نے محترم اظہر صاحب کو کال کی اور اجازت لے کر حاضر ہوگیا۔ محترم اظہر صاحب، سعد اور محمود کے ساتھ میری گاڑی میں بیٹھے اور کہا، ”لوک ورثہ چلتے ہیں۔“ لوک ورثہ پہنچے اظہر صاحب بوفے کی طرف لے گئے۔ وہاں قسم قسم کے سلاد سجے پڑے تھے۔ مختلف انواع کے اشتہا انگیز اطعمہ بھوک کی آگ کو بھڑکا رہے تھے۔ اور پھر شرینی کے اطباق کے جلوے، حلوے کو مات دے رہے تھے۔ لذیذ طعام، عمدہ کلام اور جلیل القدر امام، یہ مجلس گویا ”ربانی انعام“۔
اسی روز الشیخ عبدالرشید اظہر رحمہ اللہ نے ایک کتاب تحفتاً عنایت کی، ”مقالاتِ تربیت“ کے عنوان سے یہ کتاب ”دارالتربية للنشروالتاليف فیصل آباد“ نے شائع کی ہے۔ ”عقیدہ، فقہ اور سیاست میں محدثین کا منھج“ کے عنوان سے آپ کا مقالہ شامل ہے۔ جوکہ آپ نے مارچ 2004ء میں مركز التربية الاسلامية میں پڑھا۔ آپ کی تحریر ان الفاظ کے ساتھ صفحہِ اول پر مرقوم ہے، ”ه‍دية إخلاص و محبة للأخ الكريم اعجاز حسن سلمه الله د/حافظ عبدالرشید اظہر 1432-4-1ھ،، 7-3-2011ء“ (پھر دستخط ثبت ہیں)۔
پھر مجھے ایک کتاب دی کہا کہ اس کو پڑھ کر واپس کردو کیونکہ میرے پاس صرف ایک ہی نسخہ ہے۔ میں نے حامی بھر لی، یہ توحید کے موضوع پر محترم عبدالستار الحماد حفظہ اللہ کی تالیف تھی۔ اور اس پر آپ کا وقیع مقدمہ تھا۔ مجھ ناچیز نے اس سے استفادہ کی بھرپور کو شش کی اور اگلے روز شام کو آپ کو وہ کتاب واپس بھجوا دی۔ غالباً یہ تصنیف ”کتاب التوحید للبخاری“ کے نام سے مکتبہ اسلامیہ نے نشر کی تھی اور ان دنوں مارکیٹ میں عدم دستیاب تھی۔
اختیارات:
روزمرہ پیش آمدہ مسائل میں اگر کوئی امر واضح نہ ہوتا تو موبائل سے آپ کا در کھٹکھٹاتا، آپ سے جو باتیں سنیں اور حافظہ میں محفوظ رہ گئی وہ درج ذیل ہیں:
٭آپ ادھار اور نقد میں قیمت کے فرق کے قائل تھے، لیکن ساتھ یہ قید لگاتے تھے کہ ایک ساتھ دو قیمتیں بتانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ ٭مؤلف پہلی دفعہ اپنی تالیف کی رائلٹی لے سکتا ہے۔ ٭ایامِ حیض میں بیوی سے مجامعت کی صورت میں صدقہ کی رقم مسجد پر خرچ نہیں کی جاسکتی۔ ٭ایک شخص اگر روزانہ سفر کے بعد دوسرے شہر جا کر ملازمت کرتا ہے، اور شام کو لوٹتا ہے تو جائے ملازمت پر مسافر کی نماز پڑھے گا۔
٭اگر کارخانہ دارکے پاس حاضر سٹاک موجود نہیں اور وہ پیداوارکی صلاحیت رکھتا ہے تو مواصفات و شرائط طے کرکے مال فراہم کرنے کا معاہدہ (بیع) کرسکتا ہے، اور یہ استصناع کی ایک شکل ہے۔ ٭مروجہ اسلامک بینکنگ کو درست تصور نہ کرتے تھے۔ ٭فرض نماز میں دوران سجدہ ادعیاء ماثورۃ پڑھنے کے قائل تھے۔ ٭مروجہ انشورنس کو جائز تصور نہ کرتے تھے۔ ٭تجارتی مقاصد کے لئے خرید کی گئی زمین پر ہر سال حالیہ بازار کی قیمت کے مطابق زکٰوۃ ادا کی جائے گی۔ ٭الفقہ الواقع پر مضبوط گرفت تھی، عصرِ حاضر کے تجارتی مسائل کا درک رکھتے تھے۔
ایک مرتبہ گھر کی تعمیر اور آرائش میں ”ضرورت“ کی حد کے تعین پر گفتگو ہورہی تھی، تو فرمانے لگے کہ میں نے اپنے مہمان خانہ میں کتب کے لیے الماری بنوائی تو دیوار کا کچھ حصہ خالی تھا، اس پرلکڑی بطورِ آرائش لگوالی، لیکن دل میں کھٹک سی رہی۔ کچھ عرصہ بیت گیا، ایک روز میں مہمان خانہ سے اٹھ کر کسی کام کے لیے باہر آیا۔ تو اچانک اندر سے زور کی آواز سنائی دی، واپس پہنچا تو دیکھا آرائشی حصہ گِر چکا تھا اور اس کو دیمک نے چاٹ لیا تھا، اور کتب کا حصہ بالکل درست حالت میں تھا۔ اللہ عزوجل نے میری رہنمائی کردی، میں نے دوبارہ اس آرائشی حصہ کو نہیں بنوایا۔
اظہارِ محبت و دعا:
آپ کی وفات کے بعد احباب سے آپ کا تذکرہ جس مجلس میں ہوا، وہاں آپ کے بارے میں محبت بھرے تا ثرات ہی سننے کو ملے۔ اور ہر ایک اپنا شمار آپ سے محبت پانے والوں میں کرتا نظر آیا۔
اگر آپ کو شجر سے تشبیہ دوں تو آپ کا سایہ گھنا اور بے پناہ تھا، جس کے تلے بے شمار طلبہ نے راحت پائی۔ اگر آپ کے علم کو بہتے پانیوں سے تشبیہ دوں تو اس سے بے شمار پیاسوں نے آتشِ عطش بجھائی۔ اگر آپ کو پہاڑ سے تشبیہ دوں تو فرق باطلہ آپ سے ٹکرا کر پاش پاش ہوئے۔ اگر آپ کو ستارے سے تشبیہ دوں تو بہت سے گمراہ افراد نے آپ سے ہدایت حاصل کی۔ شاید یہ تشبیہات مناسب نہ پڑیں، بہرحال آپ انسان تھے، حامل خطا و نِسیان تھے، لیکن صاحبِ علم و عرفان تھے۔ جیتے جاگتے، کھاتے پیتے، ہنستے بولتے، موتی رولتے۔ میدانِ خطابت کے شہسوار، درس و تدریس میں سلف کی یادگار۔ بیٹیوں کے لیے کریم، بیٹوں کے لیے رحیم۔ طبیعت سادہ اور دل کشادہ۔ خوش اطوار و خوش گفتار۔ خوش تدبیر و خوش تقریر۔
زاھد خشک نہ تھے بلکہ طبیعت میں شادابی وشگفتگی تھی۔ قرآن کریم سے بے پناہ شغف اور بے حساب عقیدت تھی۔ خطاب میں آیات قرآنی سے بر محل اور بکثرت استشہاد کرتے۔ حافظہ بلا کا پایا تھا۔ ذہانت و ذکاوت میں اپنی مثال آپ تھے۔ علیم ذات نے علم و عمل دونوں سے نواز دیا تھا، دین و دنیا دونوں کا اعزاز دیا تھا، عہدہ وعزت دونوں سے سرفراز کیا تھا۔
بس یہ چند یادیں ہیں، کچھ بے ترتیب خیالات ہیں، آپ کی توجہ اور شفقت نے بہت کچھ سیکھنے کا موقع دیا۔ اللہ عزوجل آپ کی قبر کو منور و معطر فرمائے، آپ کے درجات کو بلند فرمائے، آپ پر عفوو کرم کے بادل سایہِ فِگن کر دے اور آپ کا بہتر بدل ہمیں عطا فرمائے۔ اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ آپ کے قاتِل دنیا میں بھی گرفت سے نہ بچ پائیں تاکہ آپ کے لواحقین اور محبین کو تسکینِ قلب میسرآئے۔
الحمدُللَّهِ الَّذي بنِعمتِهِ تتمُّ الصَّالحاتُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
کچھ یادیں ، کچھ باتیں پر واپس