تحریر

“عجم کا عربی دان ”دکتور ف۔عبدالرحیم

“عجم کا عربی دان ”دکتور ف۔عبدالرحیم
عربی وہ مبارک زبان ہے جس کو اللہ رب العالمین نے اپنے کلام کے لئے منتخب فرمایا۔ قرآن کر یم کی آیات بینات اسی زبان کے لبادے میں نازل فرمائیں۔ خاتم النبین، سید ولد آدم محمد ﷺ کی لسان سے اسے جمال عطا ہوا تو کلامِ الٰہی کی نسبت سے اسے اوج کمال عطا ہوا۔ اسی زبان کی ”ا“ سے اللہ اور اسی کی ”ب“ سے بسم اللہ، اسی کی ”اقرا“ سے آغازِ وحی اور اسی کی ”الیوم اکملت“ پہ اکمالِ دین۔ اسی کے گلستان میں دین کی بہار کھلی۔ اس کے شبستان میں احکامِ شریعت کا مہتاب چمکا۔ اسی کی آغوش میں صحابہ رضی اللہ عنھم نے دین سیکھا۔ اسی کے واسطہ سے محدثین نے حدیث کا ابلاغ کیا۔ اسی کے ذریعہ سے آئمہ نے علم کا پرچار کیا۔
میرے ذاتی تجربہ کی روشنی میں عربی زبان کی معرفت کے بغیر، دینِ اسلام کے مبادیات و جزئیات کو کما حقہ سمجھنا محال ہے۔ اس لیےعربی زبان کی تعلیم و تسہیل دراصل دینِ اسلام کی خدمت ہے۔ بالخصوص قرآن و احادیث کے متون کے وسیلہ سےعربی کی تعلیم نہایت ہی ارفع عمل ہے۔
چند ماہ قبل سہ ماہی مجلہ بحرالعلوم شیخ العرب والعجم نمبر میں ایک اہل علم کی سوانح حیات نظر سے گزری۔ یکایک خیال کوندا کہ محترم دکتور ف۔عبدالرحیم کی شخصیت کو پاکستانی طلباء وعلماء سے متعارف ہونا چاہیے۔ آپ کو فون کیا۔ سلام کے بعد مدعا بیان کیا۔
فرمانے لگے، ”میں نے کچھ ایسا خاص نہیں کیا کہ میرے بارے میں آپ کچھ لکھیں۔“ میں نے عرض کی، ”محترم اگر گستاخی نہ ہو تو یہ آپ کی رائے ہے اور میری رائے آپ سے مختلف ہے۔“ دکتور نے میری رائے کو قبول کرلیا اور کچھ معلومات دینے کی حامی بھری۔ پھر دکتورسے بذریعہ برقی ڈاک (ای میل) رابطہ رہا۔ آپ نے وہی معلومات فراہم کیں جو مختلف ذرائع سے شائع ہوچکی۔ اس کی وجہ شاید آپ کا انکسار ہی ہے۔
تعلق کی ابتداء
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ (سعودی عرب) میں تعلم کے ابتدائی ایام تھے۔ یاد رہے کہ راقم 2000ء تا 2004ء جامعہ اسلامیہ (مدینہ یونیورسٹی) میں زیرِ تعلیم رہا۔ ایک روز محترم طاہر جمیل جو مجھ سے متفوق (سینیئر) تھے سے عربی زبان کے سیکھنے کے بارے میں تبادلہ خیال جاری تھا کہ انھوں نے دریافت کیا: ”کیا آپ محترم دکتور (ڈاکٹر) ف۔عبدالرحیم سے ملے ہیں؟ “میں نے نفی میں جواب دیا تو کہنے لگے: ”ان سے ملئے وہ جامعہ میں عربی زبان کی تدریس کرتے رہے ہیں اور ’دروس اللغة العربیة لغیر الناطقین بھا‘ ان ہی کی تالیف ہے۔“ تب ذہن میں ایک روشنی سی چمکی اور یاد آیا کہ جو کتاب ہم شعبة تعلیم اللغة العربیة حالیہ (معھد تعلیم اللغة العربیة) میں بطورِ نصاب پڑھ رہے ہیں، اس کے سر ورق پر دکتو رف۔عبدالرحیم لکھا ہے۔ طا ہر صاحب سے پوچھا: ”رابطہ کیسے ہوگا؟“ کہا: ”میں آپ کو فون نمبر فراہم کروں گا، اس وقت میرے پاس نہیں۔“ کچھ روز بعد طاہر صاحب سے تقاضا کیا تو انھوں نے محترم ضیاءالرحمٰن اعظمی صاحب (کلیة الحدیث) کا فون نمبر دیا اور کہا: ”دکتور، ان کے ہمسائے میں رہتے ہیں، آپ کا رابطہ کروا دیں گے۔“ فون کیا اور محترم دکتور ف-عبدالرحیم سے رابطہ ہو گیا۔ دکتور سے ملاقات کا وقت طلب کیا تو فرمایا، ”آپ الطاف مالانی (کلیة اللغة العربیة) سے رابطہ کریں۔ ان کو میری رہائش گاہ کا علم ہے ان کے ہمراہ آجا ئیے۔“ الطاف مالانی کو تلاش کیا اور بالآخر ایک شام میں محترم دکتور ف۔عبدالرحیم کے پاس جا پہنچا۔ پہلی ملاقات کی تفصیل تو اس وقت میرے ذہن میں محفوظ نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ بہت پر تپاک انداز میں ملے۔ مناسب قد، روشن آنکھیں، چہرے پرمتا نت، سر پر سفید رومال، عربی چوغہ میں ملبوس، سفید ریش، ناک پر ٹکی عینک، معمر خدوخال اور نفیس شخصیت، یہ ہیں محترم دکتور ف۔عبدالرحیم۔
یادیں
میں نے جب بھی آپ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت چاہی آپ نے بخوشی دی۔ جب حاضر ہوتا تو مشروب سے مہمان داری کرتے اور اکثر اپنی کوئی تصنیف تحفہ کے طور پر عطا کرتے۔ آپ نے دروس اللغة العربیة لغیر الناطقین بھا کی انگریزی کلید جب تحفتاً عنایت کی تو انگریزی دان طلبہ مجھ سے وہ عاریتاً لے کر اس کی نقل کرواتے رہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے ایک مرتبہ میرے طالب علم ساتھیوں میں سے حافظ عبداللہ خاں (دادفتیانہ، ساہیوال) اور حافظ ضیاء الاسلام (گوجرانوالہ) بھی میرے ہمراہ تھے، اس وقت بھی آپ نے بہت شفقت فرمائی تھی۔
آپکے مہمان خانے میں عربی طرزکی فرشی نشست تھی وہیں پرآپ سے ملاقات ہوتی۔ ایک طرف الماری تھی جس میں کتب قرینےسےسجی تھیں۔ مختلف موضوعات پرآپ سے وقتاً فوقتاً استفادہ کرتا رہا۔ ایک بار آپ نے اس بات پر رنج کا اظہارکیا کہ پاکستان میں عیسائی مشنری بہت تندہی سے کام کر رہی ہے اورعیسائیوں (نصرانیوں) کی تعداد بہت تیزی سے اضافہ ہورہا ہے پھرآپ نے اعداد وشمار سے بھی آگاہ کیا۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ پاکستانی مسلمانوں سے میری بہت سی توقعات وابستہ ہیں اور یہ میرے لئے امید کی کرن ہیں۔
کبھی کوئی کام ذمہ لگا دیتے جو میرے لئے باعث فرحت رہا۔ ایک مرتبہ میں تعطیلاتِ موسم گرما کے لئے پاکستان آرہا تھا تو آپ نے ”دروس اللغة العربیة لغیرالناطقین بھا“ کے پاکستان میں طبع شدہ نسخہ طلب کئے تھے۔ آپ کی اجازت سے پاکستان میں اسکے حقوق طباعت محترم محمد بشیر صاحب (دارالعلم، اسلام آباد) کے پاس تھے۔ غالباً ڈاک سے وہ مطبوعات مجھ تک پہنچیں اور پھر میں ان کو اپنے ہمراہ سعودیہ لے گیا۔
آپ قرآن کریم کے حوالہ سے کسی پراجیکٹ پر کام کررہے تھے تو آپ نے مجھ سے کچھ معلومات حاصل کرنے کے لئے کہا۔ میں اس سلسلہ میں لاہور گیا اور ”قرآن کیلیگرافی ریسرچ پروجیکٹ“ کا تعارفی کتابچہ حاصل کیا۔ یہ قرآن کریم کی مختلف رسم الخط میں خطاطی وکتابت کے متعلق سافٹ وئیرکی تفصیلات پرمشتمل تھا۔ سعودیہ جا کر میں نے کتابچہ آپ کے حوالہ کیا، آپ نے اس پر اظہارِ مسرت کیا۔ ایک مرتبہ میں آپ کے لئے انگریزی کتاب ”American Jihad“ پاکستان سے تحفتاً لے گیا تو آپ نے خوشی کا اظہار کیا۔
جامعہ اسلامیہ سے پاکستان واپسی کے بعد بھی آپ سے رابطہ رہا۔ 2008ء میں جب حج کے لئے گیا تو ایک روز آپ کو فون کیا۔ ملاقات کی اجازت چاہی۔ کہنےلگے: ”میں خود آتا ہوں۔“ اورمسجد نبوی تشریف لے آئے۔ باوجوداسکے کہ میں اپنی نشست کے محل وقوع کے بیان میں غلطی کر بیٹھا، خفگی کا اظہار نہ کیا۔ کافی دیر گفتگو کرتے رہے اور پھر اپنی تازہ تصنیف Europe Speaks Arabic کےنسخہ عطا کیا۔ ایک نسخہ محترم عبدالجبار شاکر مرحوم کے لئے دیا اور تاکید کی کہ یہ نسخہ ان تک پہنچا دوں۔ پاکستان لوٹنے کے بعد عبدالجبار شاکر مرحوم سے رابطہ کیا۔ غالباً وہ اس وقت اسلام آباد میں تھے۔ پتا دریافت کیا اور کتاب ان کوارسال کی۔ چند روز بعد عبدالجبار شاکر صاحب کے توسط سے ایک صاحب کا فون آگیا کہ اس کتاب کا ایک نسخہ چاہیے۔ فوٹو کاپی پر وہ آمادہ نہ تھے، آخرکار فیصلہ ہوا کہ میں فون کرکے ایک نسخہ کی درخواست محترم دکتور ف–عبدالرحیم کودوں گا۔ فون کیا تو آپ نے کمال شفقت کا مظاہرہ کیا اور ان صاحب کے پتا پر سعودیہ سے کتاب بھیج دی۔ پھر وہ صاحب سعودیہ گئے تو دکتور ف۔عبدالرحیم سے ملاقات کے لئے مجھ سے انکا موبائل نمبر طلب کیا اور بعد میں کسی وقت بتلایا کہ ان سے ملاقات خوشگوار رہی۔
ایک روز مکتب ہمیں کسی مسئلہ کی جزئیات پر غور کرتے فتاویٰ میں ایک لفظ پر آ کر اٹک گیا، عبارت کا مفہوم تو واضح ہورہا تھا، لیکن ایک لفظ ”شراب“ کا معنی سمجھ میں نہ آیا، جملہ کچھ یوں تھا: ”یجوز المسح علی الشراب۔۔۔۔ (فتاوی اللجنة الدائمة للبحوث العلمیة والافتاء324/5)“ کئی لغات دیکھیں۔ عربی، انگریزی لغت بھی دیکھ ڈالی۔ یک بیک (Hans Wehr’s A Dictionary of Modern Arabic) پر نظر پڑی متعلقہ لفظ وہاں ڈھونڈا تو مسئلہ حل ہوگیا۔ بے اختیار محترم ف۔عبدالرحیم کے لئے دل سے دعا نکلی، یہ کتاب خریدنے کا مشورہ غالباً انھوں نے ہی دیا تھا۔ وہ دروس اللغة کی Key Part III کے پیش لفظ میں بھی طلبہ کو یہ مشورہ دیتے نظر آتے ہیں۔
معاصرین کی رائے
محترم دکتور ف۔عبدالرحیم کی تصنیف ”پردہ اٹھا دوں اگر چہرہء الفاظ سے۔۔۔“ کے حرف اول میں محترم عبدالجبار شاکر رحمہ اللہ آپکے تعارف میں رقم طراز ہیں؛ ”مصنف مذکور چونکہ عربی، انگریزی، فارسی، ہندی اور اردو زبانوں کے مزاج سے گہری واقفیت رکھنے کے علاوہ دوسری زبانوں کے لغوی سرمائے سے بھی شناسا ہیں، قارئین کے علم میں ہونا چاہیے کہ فاضل مصنف عربی اور انگریزی کے جید استاد رہے ہیں۔ اور ان زبانوں میں انکے علمی اور تحقیقی کام کو ایک علمی وثوق اور تحقیقی اعتبار حاصل ہے۔ اسی باعث اپنی حیات کے اس آٹھویں عشرے میں وہ مجمع ملک فہد مدینہ منورہ کے اس ادارے سے وابستہ ہیں جہاں قرآن مجید کے دنیا کی مختلف زبانوں میں تراجم کی تیاری ہوتی ہے۔ اس مجمع سے ابھی تک چالیس سے زائد عالمی زبانوں میں ”الکتاب“ کے تراجم شائع ہوچکے ہیں اور اس ذمہ دارانہ محنت کی ٹیکنیکل ایڈیٹنگ کے پس منظر میں ایک ماہر لسانیات اور فاضل ڈاکٹر ف۔عبدالرحیم کی صورت میں موجود ہے۔ وہ غیر عربوں کو عربی زبان پڑھانے والی تدریسی کاوشوں کے سلسلے میں ایک اتھارٹی اور استناد کا درجہ رکھتے ہیں۔ عربی لسانیات میں انکا اختصاصی مطالعئہ تحقیق ”المعرب والدخیل“ جیسے موضوع سے متعلق ہے۔
خالص علمی اور تحقیقی ماحول کا یہی وہ فیضان ہے جوان کی پیش نظر تصنیف میں انہیں ایک امتیاز پیش کرتا ہے۔ مصنف مذکور نے پیش نظر کتاب میں لفظوں کی لغوی اور لسانی تاریخ کے حوالے سےایک لطیف ادبی اسلوب کو اختیارکیا ہے۔ کہیں کہیں وہ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی اشعار کے ایسے برمحل اور برجستہ نمونے پیش کرتے ہیں جو ان کے پختہ ادبی مزاج کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ترجمہ و تحقیق اور لغوی مباحث سے منسلک ہونے کے باعث ان میں فنِ ترجمہ کی ایک عمدہ صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔ ”روبوٹ“ ایک ایسا آلہ ہے جو انسانی خدمات کا ایک ادنیٰ اور انوکھا نعم البدل ہے۔ فاضل مصنف نے اسکا ترجمہ ”انسالہ“ کیا ہے جو انکی تخلیقی اپج کا آئینہ دار ہے۔ اس کتاب کی لسانی اہمیت مسلم ہے اور اس کا صحیح انداہ اس کا تفصیلی مطالعہ کے بغیرممکن نہیں ہے۔“
اسلوب
محترم دکتور ف۔عبدالرحیم ”پردہ اٹھا دوں اگر چہرہ الفاظ سے“ کے پیش لفظ میں لفظ Mammet یا Maumet کا پسِ منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں، ”اس کے متعدد معانی ہیں، ان میں سے ایک ”بت“ ہے۔ بت کےعلاوہ یہ گڑیا کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔یہ لفظ کسی کی تحقیر و تذلیل کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہ لفظ ایک لفظ ہی نہیں، بلکہ تاریخ کی ایک ضخیم کتاب ہے: یورپین صاریٰ کے تعصب کی تاریخ، انکی جہالت کی تاریخ، اسلام اور نبی اسلام ﷺ سے انکی عداوت کی تاریخ۔ یہ لفظ (Mammet) نبی اکرم ﷺ کے نام نامی اسمِ گرامی کو بگاڑ کر بنایا گیا ہے۔“ (صفحہ:29،30)
اور صفحہ نمبر86 پر لکھتے ہیں:- ”جلوس: عربی میں جلوس کے معنی بیٹھنے کے ہیں۔ لیکن یہ لفظ جب ہندوستان پہنچا اور اردو میں داخل ہوا تو اٹھ کھڑا ہوا اور چلنے پھرنےلگا، اوراسکے جلو میں ہزاروں لوگ چلنے لگے۔یہ اردو کا کرشمہ ہے کہ بیٹھے ہوؤں کو چلا دے، اور چلنے والوں کا تماشہ بنا دے۔
جنوں کا نام خرد رکھ دیا، خرد کا جنوں
جو چاہے آپکا حسن کرشمہ سازکرے“
یہ آپکے خوبصورت اسلوبِ تحریر کی ایک جھلک ہے۔
محترم دکتور ف۔عبدالرحیم ”فی بلاط ھرقل(حدیث ابی سفیان رضی اللہ عنہ فی مجلس ھرقل ملك الروم)“ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں: ”وفی مجال شرح المسائل النحویة و الصرفیة، اكثرنا من الامثلة، فبالتمثیل تتضح القاعدہ۔ وراعینا ان تکون الامثلة متصلة بحیاة الدارس، ومتجددة، غیر محنطة ك ((قام زید)) لا اقامه اللہ!“ پھر حاشیہ میں لکھتے ہیں: ”قد لا یفھم القراء العرب سبب غضبی علی زید فانھم لم یعانوا ويلاته- لقد نشط زید فی بلاد العجم، و بخاصة فی بلاد شبها لقارة الھندیة، فمعلمواللغة العربیة فی مدارس ھذہ القارة و تلامذتھم لا یعرفون الا مثالًا واحدا لمعظم المسائل النحویة، وھذا المثال یتكون من زید وقيامه، أوانطلاقه، أوضربه، فمثال الفاعل: قام زید، و مثال المبتدا: زید قائم، ومثال الاسم المجرور: مررت بزید-
ومن تجربتی، مع طلاب ھذہ القارة التی استمرت ستا وعشرین سنة بالجامعة الاسلامیة بالمدینة المنورة اتضح لی انھم عاجزون عنتکوین جملة تخلو من زید! و من ثم قلت فی مقدمة كتابی المسعف: ((لن یتعلم المرء اللغة العربیة مادام زید قا ئما)) افلا تری- ایھا القاری الکریم- فی ضوءما مضی ان یجبر زید علی القعود، بل علی التقاعد، واننی لم اظلمه بدعائی عليه؟“
حالیہ سفر حجاز میں ملاقات
حالیہ سفرِ حجاز (فروری-مارچ 2012ء) میں مسجد نبوی میں آپ سے ملاقات طے پائی۔ آپ نے حسبِ سابق شفقت کا مظاہرہ کیا اور ملنے کے لیے خصوصی طور پر تشریف لائے۔ جب میں نے فون کرکے اپنی آمد سے آگاہ کیا تو خوشی کا اظہار فرمایا اور بلا تردد ملاقات پر آمادگی ظاہر کی۔ بعد از صلاة مغرب آپ سے ملاقات رہی اور آپ کو اس مضمون کا کچھ حصہ بآواز بلند سنایا۔ پھر آپ سے مختلف موضوعات پر گفتو شنید ہوتی رہی۔ دورانِ گفتگو کہنے لگے: ”میرے پاس ’پردہ اٹھادوں اگر چہرہء الفاظ سے۔۔۔‘ کے پاکستانی طبع کے نسخہ جات ختم ہوچکے ہیں، آپ سے گزارش ہے کہ مجھے پانچ کتابیں بھجوا دیجئے گا۔“ گویا آپ چھوٹوں پر شفقت ہی نہیں کرتے بلکہ انکی تکریم بھی کرتے ہیں۔
آپ کی حالیہ مصروفیات میں سے ایک جدید انداز میں قرآن کریم کی طباعت ہے۔ اس پراجیکٹ پر کئی برسوں سے کا مجاری ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد یہ ہے کہ نومسلموں اور عربی سے ناآشنا مسلمانوں کے لئے ایسا مصحف متعارف کروایا جائے جو ”قاری دوست“ (Reader Friendly) ہو۔ تفصیلاً ساجمال کی یہ ہے کہ عربی حروف کی تعداد 28 ہے اور اگر ہر حرف کی دو شکلیں بھی ہوں تو یہ 60 تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن خطاط کی جدت آفرینی سے یہ تعداد 280 تک پہنچ چکی ہے۔ جیسے حرف ”ک“ لکھنے ہی کے کئی انداز ہیں۔ نتیجتاً نوآموز قاری کو قرآن کریم کی تلاوت میں دقت پیش آتی ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خطاط حضرات ندرت آفرینی سے الفاظ قرآن کو دورانِ کتاب تان تہائی قریب لکھ دیتے ہیں، کبھی ایک لفظ دوسرے کے اوپر بھی لکھ دیا جاتا ہے۔ اس مصحف میں یہ لحاظ رکھا گیا ہے کہ ایک حرف کی دو سے زائد اشکال نہ ہوں اور الفاظ کے درمیان فاصلہ برابر ہو تاکہ نوآموز قاری یا نومسلم حروف اور الفاظِ قرآن کی کم ازکم وقت میں پہچان کرکے، درست انداز میں تلاوت کرے۔
محترم دکتور ف۔عبدالرحیم مجھے کہنے لگے ”یہ کمالیات (Luxuries) میں سے ہے۔“ میں نے ادب سے گزارش کی۔ ”محترم میری رائے میں تو یہ ضروریات میں سے ہے۔“ دکتور یہ سن کر مسکرا دئیے۔ یہ مصحف Al Quran Centre، چنائی سے شائع ہوا ہے، اور محترم ف۔عبدالرحیم نے اسکا ایک نسخہ مجھے بھی ہدیہ کیا۔ حالیہ سفرِ حجاز میں آپ نے مجھے اپنی تازہ تحقیقی کتاب ”معجم الدخیل فی اللغة العربیة الحدیثة و لھجاتھا“ کا ایک نسخہ مرحمت فرمایا اور صفحہ اول پر درج ذیل الفاظ مرقوم ہیں: ”اھدا لاخی العزیز اعجاز حسن حفظه اللہ، مع تحیاتی 15/4/1433، المسجد النبوی الشریف، المدینة المنورة“۔ اس کتاب سے ایک اقتباس نقل کرتا ہوں: ”ایمیل: بکسر الھمزة، وامالة فتحة المیم البرید الالکترونی، وھوا لرسالة المرسلة بالانترنت أوبالانترانت... وکذلك اقترح ان نسمی عنوان البرید الالکترونی: ((العلوان)) باللام (وھولغة فی ”عنوان“) فنقول مثلاً: (اکتب لیعنوانك وعلوانك) واللام تشیرای ((الکترونی)) (صفحہ 45)
افکار و خیالات
دکتور ف۔عبدالرحیم فرماتے ہیں:
٭ مسلمانوں کی عربی زبان سے دوری کی ایک وجہ طریقہ تدریس بھی ہے۔ عربی ایک روایتی طریقہ سے سیکھائی جاتی ہے۔ عمومی طور پر ہمارے اداروں میں عربی زبان سکھانے کے جدید طریقہ کار اور وسائل نہیں۔ مدینہ یونیورسٹی میں ہمارے پاس جدید سہولیات سے مزین لینگوئج لیبارٹریز ہیں اور ہم سو سے زائد ویڈیوز اور بہت سے تعلیمی چارٹ بنا چکے ہیں۔ ٭ سب سے زیادہ آسان وسیلہ تختہ سیاہ اورچاک کے مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں۔ یہ ایک اچھا نتیجہ پیدا کرسکتے ہیں، لیکن بدقسمتی سےہم اسکا استعمال بھی نہیں کرتے۔
٭ استاد پہلے سبق ہی سےعربی زبان بولے۔ طلبہ کو عربی زبان سیکھنے کے لئے کلاس میں زیادہ محنت کی ضرورت ہے۔ استاد کو عربی زبان سکھانے کے لئے لیکچر دینے کی ضرورت نہیں۔
٭ ترجمہ کی مدد سے آپ زبان نہیں سیکھ سکتے۔
٭ اسلامی اداروں میں ہم یہ چاہتے ہیں کہ طلبہ زبان اور اسلام دونوں سیکھے۔ دیوان المتنبی نہ اسلام سے متعلق ہے نہ اس کی زبان حجت ہے۔ المتنبی، حجت کی مدت کے بعد آتا ہے۔ میری رائے میں اس کتاب کو اسلامی اداروں میں سکھانا انتہائی غیرمناسب ہے۔ اسی طرح كليلة و دمنة پنچ تن ترا کا ترجمہ ہے اور ہندو تہذیب پر مبنی ہے۔
٭ طلبہ کو جدید عربی بھی سیکھنی چا ہیے تاکہ وہ اس کو بول سکیں اور لکھ سکیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کی بھی ضرورت ہے جو اسلام کے لئے لکھ سکیں اور اسلام مخالف تحریروں کا جواب دیں سکیں۔ علم شرعی اور صحافت دونوں کو جاننے والے افراد آج بہت کم ہیں۔
تعلیم و خدمات
دکتور ف۔عبد الرحیم ابن جناب عبدالسبحان صاحب مرحوم کی ولادت وانمباڑی میں 7 مئیِ 1933ء کو ہوئی۔ تمل ناڈو کا یہ شہر جہاں آپ کی ولادت ہوئی، عصری اور دینی علوم کا ایک اہم مرکز ہے۔ مدرسہ معدن العلوم، اسلامیہ کا لج، اسلامیہ گرلز کا لج، اسلامیہ ہائر سیکنڈری اسکول، مدرسئہ نسواں اور معہد اسلامی برائے صنعت وحرفت اس شہر کے معروف ادارے ہیں۔ آپ کے نام کے ساتھ جو ”ف“ کا سابقہ ہے وہ بھی اس شہر کی عطا ہے۔ آپ کی پیدائش ”وانمباڑی“ میں ہوئی، جنوب ہند میں رواج ہے کہ لقب نام سے پہلے آتا ہے تو آپ کا مکمل نام کچھ یوں ہوا: ”وانمباڑی، عبدالرحیم“۔ انگریزی میں وانمباڑی (Vaniyambadi) کی ابتداء ”V“ سے ہوتی ہے۔ اور عربی میں ”V“ کے متبادل ”ف“ کا حرف استعمال ہوتا ہے۔ تو یوں وانمباڑی سے مدینہ تک کے سفر میں ”ف“ کا ظہور ہوا۔
دکتور ف۔عبدالرحیم کی ابتدائی تعلیم اسی شہرمیں مدرسہ ہائی اسکول میں ہوئی۔ بعد ازاں اسلامیہ کالج سے آپ نے انٹر کیا، اور اس کے بعد شہر مدراس میں آپ نے ’پریسیڈنسی کالج‘ سے انگریزی زبان و ادب میں ‘بی۔اے۔آنرز’ کیا۔ آپ نے مدراس یونیورسٹی سے افضل العلماء اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ‘ایم ۔اے۔عربی’ کی ڈگری حا صل کی۔ اس کے بعد جامعہ ازہر، مصر چلے گئے جہاں آپ نے ‘ایم۔فل’ اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آپ نے مصرجانے سے پہلے اسلامیہ ہائی اسکول میں ایک سال بحیثیت استاد خدمت انجام دی، اور انگریزی پڑھاتے رہے۔ آپ کی علمی صلاحیت کو دیکھ کر اسلامیہ کالج والوں نے آپ کو کالج بلا لیا۔ جہاں آپ نے شروع میں انگریزی پڑھائی، اس کے بعد آپ نے اپنی کوشش سے عربی زبان کا با قاعدہ کورس شروع کیا۔ اور آپ انگریزی کے ساتھ ساتھ عربی بھی پڑھانے لگے۔
1964ء میں آپ نے جامعہ ازھر سے Arabic Philology میں ‘ایم۔فل’ کیا۔ ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے لئے آپ جامعہ ازہر ہی میں رجسٹریشن کروا کر آپ 1966ء میں سوڈان چلے گئے، جہاں آپ نے ام درمان یونیورسٹی میں تقریباً تین سال خدمت انجام دی۔ 1969ء میں آپ مدینہ منورہ کی مشہور یونیورسٹی جامعہ اسلامیہ تشریف لے گئے۔ جہاں آپ پہلے ایک سال انگریزی پڑھاتے رہے، اس کے بعد آپ غیر عربوں کو عربی پڑھاتے رہے۔ اس کے ساتھ آپ کلیة اللغة العربیة میں خدمت سرانجام دیتے رہے۔
1992ء میں آپ ریٹائر ہوگئے۔ چونکہ آپ کو عربی اور انگریزی کے علاوہ دیگر زبانوں جیسے جرمن، روسی، یونانی، ہسپانوی، عبرانی پر آپ کو عبور حاصل تھا۔ اس کے علاوہ ٹمل، ہندی ،سنسکرت، اور اردو پر بھی اچھی مہارت حاصل ہے۔ اس لئے مجمع الملك فھد میں Translation Centre کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے آپ کا انتخاب کرلیا گیا۔ اور الحمدللّٰہ آپ اسی شعبہ میں مصروف کار ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی مصروف زندگی نے آپ کو تصنیف و تالیف سے باز نہ رکھا۔ دکتور صاحب کا ایک اور علمی میدان ’المعرب والدخیل‘ ہے، یعنی وہ غیر عربی الفاظ جو عربی زبان میں رائج ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ نے عربی زبان میں تحقیقی کتابیں تصنیف کی جوکہ اس میدان میں آج Reference Books (مرجع) کی حیثیت اختیار کرچکی ہیں۔ ذیل میں آپ کی مطبوعہ کتابوں کی فہرست دی جا رہی ہے:

(أ‌) عربی زبان کی تعلیم و تعلم سے متعلق کتب:
1. دروس اللغة العربية لغیرالناطقین بھا (تین جلدوں میں)
2. کتاب المعلم (دروس اللغة العربية لغیرالناطقین بھا) (تین جلدوں میں)
3. (Three Parts) Key To Durus Al-Lughat Al-Arabiyya
4. Three Parts) Key To Exercises)
5. A Glossary Of Words Used In Durus Al-Lughah
6. کلید (تین جلدوں میں)
7. رہبر معلم (تین جلدوں میں)
8. التبیان (تمل، انگریزی، اردو، اورجرمنی میں)
9. دروس اللغة العربیة لغیرالناطقین بھا للاطفال< (دو جلدوں میں، مکمل رنگین)
(ب‌) عربی زبان کی تعلیم بذریعہ نصوص اسلامیة:
1. المسعف فی لغة و اعراب سورة یوسف
2. Selections from the Glorious Qur'an
3. نصوص من الحدیث النبوی الشریف
4. احادیث سھلة
5. سورة الحجرات with Lexical & Grammatical Notes
6. نصوص اسلامیة
7. فی بلاط ھرقل
8. انھما من مشکاة واحدة
9. ابشر بخیر یوم مرعلیك منذ و لدتك امك
10. الباحث عن الحق قصة سلمان الفارسی رضی اللّٰہ عنه
11. اربعون حدیثا لتعلیم اللغة العربیة و التربیة النبویة
12. From Esfahan to Madina
13. نورعلی نور Lexical & Grammatical Notes
(ج) عربی زبان سے متعلق تحقیقی کتب:
1. الدخیل فی اللغة العربیة الحدیثة و لھجاتھا
2. المعرب من الکلام الاعجمی علی حروف المعجم
3. القول الاصیل فیما فی العربیة من الدخیل
4. الاعلام باصول الاعلام الواردة فی قصص الانبیاء عليه السلام
5. سواء السبیل الی ما فی العربیة من الدخیل
6. معجم الدخیل فی اللغة العربیة الحدیثة و لھجاتھا
(د) متفرق موضوعات پر کتب:
1. حج، عمرہ اور زیارت (ٹمل اور انگریزی زبان میں)
2. کیا یہ کتاب دینی مدارس میں پڑھانے کے لائق ہے؟
3. پردہ اُٹھا دوں اگر چہرہء الفاظ سے۔۔۔
4. Europe Speaks Arabic
5. دلیل الحیاری فی تسمیة کتب الیھود والنصاری
اس کے علاوہ آپ معھد تعلیم اللغة العربیة، جامعة اسلامیة کی کئی نصابی کتابوں کے بھی مؤلف ہیں۔

آپ کی چند کتب پاکستان میں درج ذیل اداروں کے توسط سے شائع ہوچکی ہیں۔
٭ مکتبہ اھلِحدیث ٹرسٹ، کورٹ روڈ کراچی
٭ دارالعلم، اسلام آباد
٭ کتاب سرائے، لاہور
اللہ تعالٰی آپ سے اسی طرح اپنے دین کا کام لیتا رہے اور آپ کے علم و عمل اور عمر و عزت میں برکت عطا فرمائے۔ اور آپ کی مساعی کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبو لیت سے نوازے۔

الحمدُللَّهِ الَّذي بنِعمتِهِ تتمُّ الصَّالحاتُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ

مصادر و مراجع:
1: صاحبِ تحریر کی ملاقات
2: موصوف کی تصانیف
3: ”دکتور ف۔عبد الرحیم“ از ایم۔محمد۔متین نشانِ منزل اپریل 2009ء
4: انٹرویو: اسلامک وائس، اگست 2007ء، بنگلور
5: www.lqtoronto.com
6: http://drvaniya.com
کچھ یادیں ، کچھ باتیں پر واپس