تحریر

دارالسلام کے ہم قدم

دارالسلام کے ہم قدم
چند ماہ قبل کی بات ہے، میں نے محترم حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کے موبائل نمبر پر کال کی۔ سلام کے بعد عرض پرداز ہوا کہ میں اس وقت لاہور میں ہوں اور فرصت کے چند لمحات میسر ہیں۔ آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ میں دارالسلام جارہا ہوں۔ آپ وہیں آجائیں۔ میں نے حامی بھرلی۔ دوپہر کا وقت تھا، اور لوئر مال کے آس پاس سڑک ادھڑی پڑی تھی۔ بہر صورت کچھ تگ و دو کے بعد دارالسلام کی پر شکوہ کے عمارت کے سامنے تھا۔ محترم صلاح الدین یوسف صاحب نے کہا کہ آپ کچھ وقت رکئے۔ میں فراغت پا کر آپ سے ملتا ہوں۔ میں ادائیگی صلاۃ ظہر کے لیئے دارالسلام کی عمارت میں داخل ہوگیا۔ سیڑھیوں پر قدم جماتے ہوئے اوپر پہنچا، وضو کیا، چند لوگ اور بھی موجود تھے، باجماعت نماز ادا کی اور ریسرچ سیکشنز پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے زمینی منزل پر واپس آیا۔
دارالسلام کے احاطہ میں تقریب جاری تھی۔ محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب، محترم پروفیسر محمد یحییٰ صاحب، محترم محسن فارانی صاحب، محترم عبدالعظیم اسد صاحب اور محترم عکاشہ مجاھد صاحب کرسیوں پر رونق افروز تھے۔ ہال نما کمرہ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ دارالسلام لاہور میں انتظامی تبدیلیوں کے حوالے سے تقریب منعقد ہو رہی تھی۔ مذکورہ بالا افراد نے اسی مناسبت سے اظہارِ خیال کیا۔ راقم محترم حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کے حکم کے پیشِ نظر بیٹھا رہا اور معلومات میں اضافہ ہوتا رہا۔ تقریب کا اختتام ہوا تو محترم صلاح الدین حفظہ اللہ سے ملاقات ہوئی، لیکن تشنہ رہی کیونکہ وقت کافی بیت چکا تھا اور مجھے کسی جگہ پہنچنا تھا۔ برادر حافظ عثمان یوسف سے بھی برسوں بعد ملاقات ہوئی۔ عکاشہ مجاھد صاحب نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد وصول کرتے نظر آئے۔ یہ دارالسلام سے متعلق تازہ ترین خوبصورت یاد ہے۔
1998ء کی بات ہے کہ میں نے ادائیگی عمرہ کے لیئے پہلی بارحجاز کا سفر کیا۔ غالباً وہاں سے دارالسلام کی طبع کردہ الاربعين النووية، للإمام النووي An Nawawi's Forty HADITH خرید کی جوکہ انگریزی زبان میں تھی۔ اس کتاب کے سرورق پر مکتبۃ دارالسلام الریاض تحریر تھا اور یہ 1994ء میں چھاپی گئی تھی۔ شاید یہی وہ کتاب ہے جس سے دارالسلام کے ساتھ تعلق کی بنا پڑی۔
دارالسلام اردو بازار میں ان دنوں محترم عبدالقیوم گوندل صاحب ہوا کرتے تھے۔ اللہ رب العالمین کے کرم سے حسبِ توفیق کتب خرید کرتا اور ان میں سے کچھ احباب میں تقسیم بھی کر دیتا۔ ایک مرتبہ عبدالقیوم گوندل صاحب سے دارالسلام کے کیٹلاگز (فہارس ہائے کتب) کا تقاضہ کیا اور انھوں نے کافی تعداد میں ارسال کردیئے۔ میں نے مختلف نجی و نیم سرکاری تعلیمی اداروں کو وہ کیٹلاگز، ارسال کیئے تاکہ قرآن و سنت پر مبنی لٹریچرسے ان کو آگاہی حاصل ہو۔ مجھے کافی اچھا فیڈبیک موصول ہوا۔ ان کے جانے کے بعد شعیب صاحب سے بہت عرصہ رابطہ رہا۔ اور ان دنوں وسیم صاحب اردو بازار میں ذمہ دار ہیں۔ چند ماہ قبل وسیم صاحب نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاول نگر کیمپس میں منعقدہ بک فیئر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کو کہا تھا۔ میں نے پہلی فرصت میں ان کو متعلقہ معلومات فراہم کر دیں۔ لیکن کسی انتظامی وجہ سے وہ بک فیئر میں شرکت نہ کرسکے۔
جامعہ اسلامیہ مدینہ (2004-2000ء) میں گزرے ایام، زندگی کے حسین ترین ایام تھے۔ ہر سال جامعہ میں معرض الکتاب (بک فیئر) کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔ ایک برس دارالسلام کی طرف سے بھی سٹال لگایا گیا تھا۔ محترم عبدالمالک مجاہد صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ لیکن آپ سے ملاقات نہ ہوسکی۔ بہرحال محترم عبدالمالک مجاھد صاحب کا تحفہ ”المصباح المنیر فی تھذیب تفسیر ابن کثیر“ بطورِ متعلم جامعہ اسلامیہ میں وصول کرنے کا حقدار ٹھہرا تھا اور ان کی ٹیم کی طرف سے گہرے نیلے رنگ کا ایک دیدہ زیب بیگ بھی حاصل ہوا تھا، جزاھم اللہ خیرا۔ ان دنوں دارالسلام کی شائع کردہ ”فتح الباری شرح صحیح البخاری“ کے نسخہ کا بڑا شہرہ تھا۔ میں نے بھی سینئرز کی رہنمائی سے وہی خرید کیا تھا اور دارالسلام کے نمائندہ نے 14 جلدوں پر مشتمل یہ گراں مایہ کتاب مجھے ہاسٹل میں میرے کمرے میں پہنچا دی۔ دارالسلام مدینہ کے ایک رفیق کار مقصود صاحب کے یادیں آج بھی ہمراہ ہیں۔
جامعہ اسلامیہ میں قیام کے دوران مجھے الریاض جانے کا موقع میسر آیا۔ برادرم قاضی عبدالکریم اور ان کے برادر کبیر قاضی عبدالرحیم نے خوب خوب مہمان نوازی کی۔ دونوں بھائی ان دنوں جامعة امام محمد بن سعود الاسلامية میں زیر تعلیم تھے۔ قاضی عبدالکریم مجھے شام کے وقت دارالسلام الریاض لے آئے۔ برسوں پرانی بات ہے۔ بس یہ یاد پڑتا ہے کہ ایوب سپرا صاحب سے کچھ دیر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ انگریزی سیکشن میں ایک ہندوستان کے ساتھی سے دارالسلام کے جاری پراجیکٹس کے حوالے سے گفتگو رہی۔ غالباً اسی رات محترم قاری عبدالحلیم حفظہ اللہ سے بھی مجلس رہی۔
1999-2000 میں تقریباً ایک برس، عروس البلاد کراچی میں دینی تعلیم کے لیے سکونت پذیر رہا۔ ان دنوں دارالسلام، کراچی میں اپنی کتب کی تقسیم کار کے حوالے سے مختلف لائحہ عمل پر غور کر رہا تھا۔ اس سلسلہ میں میرے بہت اچھے، سادہ اور ملنسار دوست ساجد محمود کا مکتبہ نور حرم بھی ایک آپشن تھا۔ عبدالقیوم گوندل صاحب نے ایک بار انھی دنوں اسے وزٹ کیا۔ یہ معلومات ساجد بھائی نے ہی مجھ سے شئیر کی تھیں۔ ساجد محمود بھائی نے ایک بار مجھے بیان کیا تھا کہ محترم عمر فاروق سعیدی صاحب دارالسلام کے لیئے تحقیقی کام کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں آنجناب اور دارالسلام کے درمیان ابتدائی رابطہ ساجد محمود کے ذریعے ہوا تھا۔ میرے خیال میں شاید یہ سنن ابو داؤد (اردو) پر تحقیقی کام تھا جس میں عمر فاروق سعیدی صاحب نے ترجمہ و فوائد کی ذمہ داری نبھائی ہے۔
کراچی قیام کے دوران میرے ایک محترم استاد نے مجھے قرآن کریم کے انگریزی ترجمے کے کچھ اوراق دیئے اور اس پر کچھ تحقیقی کام ذمہ لگایا۔ میں نے حسبِ توفیق وہ کام کرکے ان کے حوالے کر دیا۔ انھوں نے چند روز بعد پھر اسی انداز کا کام سونپ دیا۔ میں نے محترم استاد سے پسِ منظر اور ضرورت دریافت کی۔ انھوں نے بتلایا کہ ایک تعلیمی ادارے میں قرآنِ کریم کے انگریزی ترجمہ کی دورانِ تدریس ان کو حاجت تھی۔ میں نے ان کو دارالسلام کا شائع کردہ The Noble Qur'an کا ذاتی پاکٹ سائز نسخہ پیش کیا، موصوف نے مسرت کا اظہار فرمایا۔ پھر چند روز بعد انھوں نے مجھے ایک نیا نسخہ خرید کر لانے کو کہا اور میرا نسخہ لوٹا دیا۔
محترم حافظ صلاح الدین یوسف صاحب (مدیر شعبہ تالیف و ترجمہ دارالسلام، پاکستان) سے چند مرتبہ دارالسلام کے حوالے سے مراسلت بھی رہی۔ احسن البیان کمپیوٹر کمپوزنگ کے ابتدائی ایڈیشن میں پیسٹنگ کی غلطی سے سورۃ الھمزۃ کی آخری دو آیات کے ترجمہ میں تقدیم و تاخیر تھی میں نے اس کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ پوسٹر ”قرآن کی فریاد“ کے الفاظ پر کچھ بات ہوئی۔ چند سال قبل مجھے بذریعہ ڈاک ضیائے حدیث موصول ہوا۔ غالباً پہلا شمارہ تھا، حسبِ روایت دارالسلام نے تحقیقی و طباعتی معیار کو برقرار رکھا۔ حسبِ توفیق میں نے احباب کو اس مجلہ سے متعارف کروایا۔
سالوں پر محیط دارالسلام کے اس سفر کے بارے میں کچھ باتیں کرتے ہیں۔ دارالسلام کو ابتداء میں ”مکتبہ دارالسلام“ کا نام دیا گیا تھا۔ اب اردو میں ”دارالسلام“ عربی میں ”دارالسلام للنشروالتوزیع“ اور انگریزی میں "DARUSSLAM" سے متعارف کروایا جاتا ہے۔ اردو بازار لاہور اور الریاض (سعودی عرب) سے ابتداء کرنے والے ادارے کی غالباََ آج 14 ممالک میں شاخیں موجود ہیں۔ دارالسلام کی کتب کم و بیش ہر معیاری بک سٹور پر موجود ہوتی ہیں۔
دارالسلام کا لوگو / مونوگرام (تجارتی نشان) ابتداء میں پتیوں کے ایک نصف دائرے پر مشتمل تھا، جس نے کھلے صفحات کی کتاب کو گھیر رکھا تھا۔ پتیوں کے دائرے کے نیچے ربن کا ایک خاکہ تھا جس میں مکتبۃ دارالسلام تحریر تھا۔ وقت کے ساتھ اس کی صورت و حسن کو مزید نکھار دیا گیا ہے۔ اب یہ مستطیل ہے اور اس کے دو کونے گولائی لیئے ہوئے ہے، دارالسلام کی ہر طبع کردہ کتاب پر یہ اپنی تمام تر رعنائی کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
دارالسلام کا کیٹلاگ (فہرست کتب) برسوں پہلے تقریباََ 9 x 21cm کے سائز پر قلیل سے صفحات پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ 2013ء کا کیٹلاگ 22 x 28 cm کے سائز 16 صفحات پر مشتمل ہے۔ اردو و عربی حصے میں 464 کتب ہیں۔ تسجیلات (آڈیو/ سمعی حصے) میں 125 عنوانات ہیں۔ بابا سلام ایجوکیشنل سیریز میں 14 پراڈکٹس ہیں۔ انگریزی میں 463 مطبوعات ہیں۔ پاکستان بھر میں دارالسلام کی مطبوعات کے تقسیم کنندگان موجود ہیں۔
محترم عبدالمالک مجاھد صاحب کے نام ساتھ ابتداء میں ”جنرل مینجر“ لکھا جاتا تھا۔ پھر”خادم کتاب و سنت“ کے الفاظ سے تعارف کروایا جاتا تھا۔ اب ”خادم کتاب و سنت“ کے ہمراہ ”مینجنگ ڈائریکٹر“ بھی لکھا جاتا ہے۔ آپ پہلے پہل صرف ناشر کی حیثیت سے جانے جاتے تھے، اب آپ کی تالیفات کی ایک سنہری لڑی اور ذھبی کڑی بھی ہے، جو اپنے منفرد واقعاتی اسلوب کی سبب معروف ہے۔
ان سالوں میں کتنے ہی بالوں کی سیاہی سفیدی میں بدل گئی، کتنے شجر سایہ دار خمدار ہوگئے، کتنے نئے پودے زمین پھاڑ کر نکل آئے اور سینہ تان کر کھڑے ہو گئے۔ عبدالمالک مجاہد صاحب کے کندھوں کا بار اٹھانے کے لیئے عکاشہ مجاہد اورعبدالغفار مجاہد آچکے۔ حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ کے چمنستان علم کی آبیاری کے لیئے حافظ عثمان یوسف پر عزم ہیں۔ دارالسلام کی دیدہ زیب ویب سائٹ darussalampk.com کے عنوان سے منصہ شہود پر آچکی۔ دارالسلام Facebook پر بھی اپنی موجودگی کو یقینی بنا چکا ہے۔ یہ وہ داستان ہے میرے زاویہ نظر میں تھی، یہ وہ مناظر جو میری آنکھ میں قید تھے۔ اس موضوع پر دارالسلام کی رفقاء کی امید و امنگ بھری آنکھیں بہت کچھ بیان کر سکتی ہیں۔ دارالسلام کی کہانی، دارالسلام کی زبانی بیان ہو سکتی ہے۔
کچھ یادیں ، کچھ باتیں پر واپس