اس تصنیف کا نام اب وقت کی گرد نے ذہن سے محو کرد یا۔ لیکن تاثر یہ بنا کہ لکھنے والے حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ یقیناً میدان قلم و قرطاس کے صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ ہیں، اور ان سے ملاقات ضروری ہے۔ غالباً 2001ء کی بات ہے۔ مدینہ یونیورسٹی میں میرے دوسرے تعلیمی سال کا آغاز تھا۔ فلائٹ لاہور سے تھی۔ روانگی سے قبل ”اپنے ایوبی“ سے ملاقات کی ٹھانی۔ شاید لینڈ لائن ٹیلیفون پر رابطہ ہوا۔ اس وقت ”میرےایوبی“ کی لاہور میں ایک مسجد کے منسلک بالائی منزل پر رہائش تھی۔ ابھی گڑھی شاہو والے مکان میں تشریف نہیں لائے تھے۔ میں نمازِِ ظہر کے وقت مسجد پہنچا۔ نماز ادا کی۔ ملاقات ہوئی۔
درمیانہ قد، گندمی رنگت، گھنی داڑھی، چمک دار آنکھیں، سادہ لباس، سر پر ٹوپی اور ناک پر عینک۔ مجھے رہائش پر لے گئے۔ میں ”اپنے ایوبی“ کے علمی مورچے (کمرے) میں داخل ہوا۔ فرش پر ایک چوکی نما میز دھری تھی، جسے لکھنے کے لئے استعمال کرتے تھے۔ قلم بھی موجود اور کتب کا ذخیرہ بھی۔ ذہن رسا اور ذوقِ مطالعہ کا ساتھ تھا۔ ”میرے ایوبی“ کے مورچے سے ایسے گوہر تخلیق ہوتے کہ اہل باطل کی صفوں میں کھلبلی مچ جاتی۔
عثمان بھائی (عثمان یوسف) بھی تشریف لے آئے۔ تعلیم و تعلم کا پوچھا۔ میٹرک یا ایف اے، بتایا۔ میں نے فوراً مدینہ یونیورسٹی داخلے کی آفر لگائی۔ عثمان بھائی (برادر عثمان یوسف حفظہ اللہ) نے شاید چند اسناد و کاغذات دئیے، بقیہ بعد میں ارسال کر دیئے۔ اس ملاقات کی مزید تفصیلات یاد نہیں۔ رخصت چاہی۔ اس پہلی ملاقات ”میرے ایوبی“ نے نرم گفتاری، علم اور شفقت کے ایسے حصار میں لیا کہ 19 برس میں وہ حصار مضبوط ہوتا گیا اور میں خود کو اس میں محفوظ تصور کرنے لگا۔
داخلہ، دارالسلام، خط و کتابت
عثمان بھائی غالباً جامعہ رحمانیہ (جامعہ لاہور اسلامیہ) لاہورمیں طالب علم بھی تھے۔ عثمان بھائی کے کاغذات مکمل وصول ہوگئے، تو میں نے مدینہ یونیورسٹی کے شعبہ داخلہ (عمادۃ القبول و التسجیل) میں جمع کروا دیئے۔ تعارفی ورقے پر میں نے لکھا کہ کنگ فہد کمپلیکس مدینہ سے اردو میں شائع ہونے والی تفسیر اس امیدوار کے والد کے قلم سے لکھی گئی۔ عثمان بھائی کے بارے میں لکھا: هذا الشبل من ذاك الأسد۔ داخلہ کے سلسلے میں ممکن کوششیں کیں۔ گاہے گاہے رابطہ رہتا تھا۔ الحمدللہ 2003ء میں نے سعودی عرب سے فون پرداخلے اطلاع دی۔ ”محترم ایوبی“ بھی خوش تھے اورعثمان بھائی بھی۔ عثمان بھائی مدینہ تشریف لے آئے۔ میں 2004ء میں مدینہ سے لوٹ آیا۔
2 فروری 2001ء کو دارالسلام کے لیٹر ہیڈ پر خط میں مجھے لکھتے ہیں: ”محترم اعجاز حسن صاحب! آپ کا مکتوبِ گرامی ملا۔ اس میں آپ نے سورہ ہمزہ کی آخری دو آیات کے ترجمے میں تقدیم و تاخیر کی غلطی کی نشان دہی فرمائی ہے۔ جزاک اللہ احسن الجزاء! ہم اس توجہ فرمائی پر آپ کے شکر گزار ہیں۔ ان شاءاللہ جب بھی موقع ملا اس کی تصحیح کر دی جائے گی۔ دعائے خیر میں یاد رکھا کریں۔ تمام احباب اور رفقاء کو سلام۔“ ”محترم ایوبی“ اس وقت دارالسلام لاہور کے مدیر شعبہ تحقیق و تصنیف و ترجمہ تھے۔ دارالسلام کی کتب ان کی علمی نگرانی میں شائع ہو رہی تھیں۔
ایک ملاقات 2002ء میں بھی ہوئی۔ جولائی 2002ء میں سعودی جامعات میں زیرِِ تعلیم طلبہ اور مقامی مدارس میں زیرِِ تعلیم طلبہ کی تربیتی ورکشاپ منعقدہ جامعہ لاہوراسلامیہ میں اظہارِِ خیال کیا۔ حالاتِ زندگی بیان کیے۔ مؤثر تحریر لکھنے کے حوالے سے بھی شاید طلبہ کی رہ نمائی کی۔
زمانہ طالب علمی میں نے ایک مختصر کتاب ترتیب دی۔ ”محترم ایوبی“ نے اس کی تقریظ میں لکھی۔ اس میں سے چند جملے نقل کرتا ہوں: ”زیرِ نظر کتاب عزیز گرامی اعجاز حسن سلمہ اللہ و بارک فی علمہ و عمرہ، متعلم جامعہ اسلامیہ (مدینہ یونیورسٹی) مدینہ منورہ کی تالیف ہے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ راقم نے اس پر ایک سرسری نظر ڈالی ہے جس سے عزیز گرامی کی علمی ثقاہت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور اسلامی جذبات کی فراوانی کا بھی۔ یہ دونوں چیزیں دیکھ کر بڑی مسرت ہوئی۔ آج کل نوجوانوں میں بالعموم ان دونوں چیزوں کا فقدان ہے۔ الا من شاء اللہ“ مدیر شعبہ تحقیق و تصنیف و ترجمہ، دارالسلام لاہور (اپریل 2003ء)
تصانيف پر اِک نظر
1۔ تفسیر احسن البیان (مختصر تفسیر قرآن مجید) شاہ فہد قرآن پرنٹنگ پریس، مدینہ منورہ۔ یہ تفسیر لاکھوں کی تعداد میں شائع ہو کر دنیا کے ہر خطے میں پہنچی۔ اردو زبان جو قبولیت اللہ تعالی نے تفسیر احسن البیان کو عطاء کی وہ کسی اور کے حصہ میں نہ آئی۔
2۔ تفسیر (زیرِ تکمیل) مفصل تفسیر تھی۔ جس پر وہ اپنی زندگی کے آخری ایام میں کام کر رہے تھے۔
3۔ مکمل ترجمہ قرآن مجید
4۔ دلیل الطالبین، اردو ترجمہ و فوائد رياض الصالحین للإمام النووي
5۔ خلافت وملوكيت، تاريخى وشرعى حيثيت
6۔ مولانا امین احسن اصلاحی اپنے حدیثی و تفسیری نظریات کی روشنی میں
7۔ فکرِ فراہی اور اس کے گمراہ کن اثرات، ایک علمی و تحقیقی جائزہ
8۔ فتنہ غامدیت
9۔ جنازہ کے احکام و مسائل (انسائیکلوپیڈیا) اور مسئلہ ایصالِ ثواب
10۔ نفاذِ شريعت كيوں اور كيسے؟
11۔ توحيد اور شرك كى حقيقت
12۔ نمازِ محمدى صلى اللہ عليہ وسلم
13۔ مفرور لڑکیوں كا نكاح اور ہمارى عدالتيں (مسئلہ ولايت نكاح كا ايك تحقيقی جائزہ)
14۔ رمضان المبارك، فضائل، فوائد وثمرات، احكام ومسائل
15۔ فضائل عشرہ ذوالحجہ اور احكام ومسائل عيد الاضحٰى
16۔ مسنون نماز اور روزمرہ كى مسنون دعائيں
17۔ حقوقِ مرداں و حقوقِ نسواں
18۔ عورتوں کے امتيازى مسائل و قوانين، حكمتيں اور فوائد
19۔ کیا عورتوں کا طریقہ نماز مردوں سے مختلف ہے؟
20۔ اسلامى آداب معاشرت
21۔ واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات
22۔ زکٰاۃ، عشر اور صدقۃ الفطر (فضائل، احکام و مسائل)
یہ ”محترم ایوبی“ کی کتب کی مکمل فہرست نہیں۔
ملاقاتیں، یادیں
دو تین بار ان کے گڑھی شاہو والی رہائش پر حاضر ہوا۔ آخری بار ملاقات میں علمی مورچہ کی ہیئت کچھ بدل چکی تھی۔ لیکن کتب، قلم اور قرطاس سب موجود تھے۔ کرنسی کی قدرمیں اتار چڑھاؤ کے سبب پیدا ہونے والے فقہی معاملات پر گفتگو ہوئی۔ مختلف ملاقاتوں میں ایک سے زائد بار انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ”خلافت وملوكيت، تاريخى وشرعى حيثيت“ کو عربی قالب میں ڈھالا جائے۔ گاہے گاہے اپنی کوئی تصنیف ارسال کرتے۔ پوچھتے مطالعہ کیا ہے؟ تبصرہ نہیں آیا؟ مطالعہ کے ضمن میں میرا جواب عموماً مثبت ہوتا۔ تبصرہ کے ضمن میں ان سے معذرت کے کلمات عرض کردیتا۔ ناراض نہیں ہوتے تھے۔
میں نے ایک بار دن میں گیارہ بجے کے لگ بھگ کال کی۔ ملاقات کا وقت چاہا۔ کہنے لگے دارالسلام لوئر مال روڈ آجاؤ۔ میں پہنچ گیا۔ اک تقریب تھی۔ عبدالمالک مجاہد صاحب کے ایک فرزند شاید عبدالعظیم اسد کی جگہ لاہور کے دفتر کی ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ کئی ایک افراد نے اظہارِ خیال کیا۔ محترم ایوبی نے بہت عمدہ نصیحت کی، دعا دی۔ پھر تنبیہ کرتے ہوئے کہنے لگے: ”بعض اوقات غیر ذمہ داری اور بے توجہی کا یہ نتیجہ میں نے خود دیکھا کہ باپ نے اولاد کو کاروبار سونپا اور باپ کی زندگی میں ہی اولاد نے کاروبار کو برباد کردیا۔“ دارالسلام پاکستان کو کامیاب کرنے میں محترم ایوبی کی خدمات اور کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح دارالسلام الریاض میں صفی الرحمان مبارک پوری رحمہ اللہ کی خدمات بھی گراں قدر ہیں۔ ان دونوں شخصیات میں علم و حلم، تحریر و کتابت، حق گوئی ونرم خوئی اور دیگر حوالوں سے مماثلت نظر آتی ہے۔ مجھے صفی الرحمان مبارک پوری رحمہ اللہ سے بھی مدینہ میں کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔
ایک مختصر سی ملاقات محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ سے مجموعہ علماء اہل حدیث کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ مرکز لارنس روڈ پر یہ یادگار اجلاس چند برس قبل منعقد ہوا تھا۔ تمام متظمین بالخصوص برادر ہشام الٰہی نے اجلاس کو کامیاب بنانے کے لیے بہت کاوش کی تھی۔
طالب علم کی عزت افزائی
رمضان کے ایام تھے۔ ایک دوست نے افطار پر مدعو کیا تھا۔ فون کی آواز سن کر سکرین پر نظر ڈالی تو محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ کا نمبر جگمگا رہا تھا۔ میں اجازت لے کرمہمان خانے سے باہر آگیا۔ کال اٹینڈ کی۔ عثمان بھائی سے بات ہوئی۔ محترم ایوبی سے بھی بات ہوئی۔ عثمان بھائی نے کہا کہ ہمارے ایک عزیز اسلامی بنک سے کار لیزنگ کے حوالے سے رہ نمائی چاہتے ہیں۔ اس سے قبل عزیز کو جواز سے متعلق رائے مل چکی تھی۔ عزیز نے فون تھام لیا اور سوالات کیے۔ میں جواب عرض کرتا رہا یہاں تک کہ عزیز کے سوال ختم ہو گئے۔ محسوس ہوا کہ عزیز کا میرے جواب پر اطمینان ہوچکا۔ اس سوال جواب میں 20-30 منٹ گزر گئے۔ میں مہمان خانے کے باہرکھڑا محترم ایوبی کی کال کا جواب دے رہا تھا۔ واپس مجلس میں پہنچا تو دوست نے تنبیہی استفسار کیا۔ میں نے عرض کی اہل علم کی کال تھی، اس لئے تاخیرمناسب نہ تھی۔
چند ہفتے قبل بھی اسلامی بنکنگ کی پرڈاکٹس کے حوالے سے ایک مسئلہ پر عثمان بھائی نے محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ کی ہدایت پر مجھ سے واٹس ایپ رابطہ کیا۔ ایک عالم کی آڈیو ارسال کی، جو جواز کی بات کر رہے تھے۔ میں نے اس پر جوابی تبصرہ ارسال کر دیا۔
تین خواب
چند برس قبل میں نے ایک خواب دیکھا۔ جس کی تعبیر معبر کی رہ نمائی میں کچھ یوں سامنے آئی۔ فتنوں اور آزمائشوں کے دور میں ایک عالم ربانی قلم و قرطاس کے میدان میں مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ رکاوٹ ان کی راہ نہیں روک پا رہی۔ راہ کے پتھروں سے بچ کر وہ منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔ دیگر لوگوں کے مقابل ان کی کاوش فائق دکھائی دے رہی ہے۔ جو عالم ربانی اس خواب میں اپنے مشن پر ڈٹے تھے، وہ محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ تھے۔
دوسرا خواب تین چار برس قبل دیکھا کہ محترم ایوبی پریشان اور مشکل میں ہیں۔ میں نے خواب کے بعد رابطہ کیا۔ معاملہ ایسا ہی تھا۔ بہرحال اللہ رب العالمین کے کرم اور مخلص لوگوں کی تگ ودو سے معاملہ بہتر ہوگیا۔
تیسرا خواب چند ہفتے قبل دیکھا۔ محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ لیٹے ہیں۔ کچھ کرب ہے آواز میں۔ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ آپ آئے نہیں۔ کچھ علمی کام کمپیوٹر پرسمیٹ جاتے۔ میں عرض کرتا ہوں کہ جی میں حاضر ہوتا ہوں۔ اس خواب کے بعد جلد ملاقات کا ارادہ مزید پختہ ہوگیا۔ کچھ عرصہ سے عزم تھا کہ آئندہ لاہورکے وزٹ میں محترم ایوبی کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ تفصیلی نشست میں ان کی زندگی کے حوالے سے سوال کروں گا۔ ان کے تجربات و تجزیات کو ریکارڈ کروں گا۔ لیکن میری طبیعت ناساز رہی۔ یہ وزٹ کئی ہفتے مؤخر ہوا۔ یہاں تک کہ تقدیر کا لکھا غالب آیا۔ قدر اللہ ما شاء فعل!
حالِ دل، دعا، اختتام
29 اگست، 2005ء کو دارالسلام کی لیٹرہیڈ پر ”مسنون حج و عمرہ“ کتاب سے متعلق میرے ایک اعتراض پر جواب ارسال کیا۔ 30 اپریل، 2005ء کو میرے مکتوب کے جواب میں بیماری سے متعلق دریافت کیا۔ 19 ستمبر، 2006ء کو طلاق معلق (مشروط) کے بارے میں فتوی موصول ہوا۔ 04 مارچ، 2013ء کو ان کی طرف سے وراثت کے ایک پیچیدہ سوال کا جواب ان کی مہر کے ساتھ موصول ہوا۔
مسافت کی دوری اور ناسازی طبع کے سبب جنازے میں شرکت نہ کر پایا۔ عثمان بھائی سے فون پر تعزیت کی۔ کہنے لگے: ”والد صاحب آپ سے بہت محبت کرتے تھے۔“ دل بھر آیا۔ سوچا یہ بھی اہلِ دل اور اہلِ علم کی شان ہے کہ مجھ ایسے طالب علم پر شفقت فرماتے ہیں۔
ابھی بہت سی یادیں باقی ہیں جو احاطہ تحریر میں نہیں آئیں لیکن نہاں خانہ دل پر رقم ہیں۔ آپ کی وفات کے بعد سوشل میڈیا پر آپ کا بہت تذکرہ ہوا۔ آپ کے بارے میں محبت و عقیدت بھرے تاثرات ہی سننے کو ملے۔ آپ کے علم و قلم کا فیض بے شمار اور بے حساب لوگوں تک پہنچا۔
اگر آپ کے علم کو بہتے پا نی کے جھرنے سے تشبیہ دوں تو اس سے بے شمار پیاسوں کو سیراب کیا۔ اگر آپ کو شمشیر بے نیام سے تشبیہ دوں تو اس تلوار سے باطل افکار و نظریات چاک ہوئے، اور حق کی حفاظت ہوئی۔ اگر آپ کو شجر سایہ دار سے تشبیہ دوں تو آپ کا سایہ گھنا اور بے پناہ تھا، جس کے تلے بے شمار طلبہ کو راحت میسر آئی۔ اگر آپ کو ستارے سے تشبیہ دوں تو بہت سے بھٹکے لوگوں نے آپ کی کتب سے ہدایت حاصل کی۔ شاید یہ تشبیہات مناسب نہ پڑیں۔ بہرحال آپ انسان تھے، حامل خطا و نِسیان تھے، لیکن صاحبِ علم و عرفان تھے۔ جیتے جاگتے، کھاتے پیتے، ہنستے بولتے، موتی رولتے۔ میدانِ قلم و قرطاس کے شہسوار، درس و تدریس میں سلف کی یاد گار۔ اولاد کے لیے کریم و رحیم۔ طبیعت سادہ اور دل کشادہ۔ خوش اطوار و خوش گفتار۔ خوش تدبیرو خوش تحریر۔ طبیعت میں سنجیدگی غالب تھی، لیکن شگفتگی سے مزین تھی۔ ذہانت و ذکاوت میں اپنی مثال آپ تھے۔
یہ کچھ بے ترتیب خیالات ہیں، چند یادیں ہیں۔ آپ کی توجہ اور شفقت سے بہت کچھ سیکھنے کا مو قع ملا۔ اللہ رب العالمین محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ کی قبر کو منور و معطر فرمائیں، آپ کے درجات کو بلند فرمائے، آپ پر عفوو کرم کے بادل سا یہ فگن کر دے اور آپ کا بہتر بدل ہمیں عطا فرمائے۔
الحمدُللَّهِ الَّذي بنِعمتِهِ تتمُّ الصَّالحاتُ۔
ضمیمہ (15 جولائی، 2020ء)
اس تحریرکی تکمیل کے بعد برادر عمر قدوسی نے 14 جولائی، 2020ء کومیسج ارسال کیا۔ جس کا خلاصہ تھا کہ کچھ مزید یادیں رقم کریں۔ دیگر کئی احباب نے بھی حوصلہ افزائی کی۔ مزید چند خیالات کو الفاظ میں ڈھالا ہے۔
المدینہ اسلامک سنٹر
چند برس قبل ذاتی مصروفیات کے سبب کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ سعید شاہ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) المدینہ اسلامک سنٹر کے روح رواں ہیں۔ میرے مدینہ یونیورسٹی کے ساتھی ہیں۔ ان کو کال ملائی۔ انھوں نے اسی اپنائیت کا اظہار کیا جو زمانہ طالب علمی میں ان کا خاصہ تھی۔ مجھے جوڑیا بازار سےگاڑی میں لے کر کلفٹن کی طرف آئے۔ معروف ریستوران میں لذیذ طعام اور حسین ساتھ نے ان لمحات کو یادگار بنا دیا۔ مسجد سعد بن ابی وقاص ڈیفنس فیز 4 میں نماز ادا کی۔ مجھے المدینہ اسلامک سنٹر کا وزٹ کروایا۔ بتایا کہ محترم حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ اب ہمارے ادارے (المدینہ اسلامک سنٹر) کے ساتھ منسلک ہیں۔ ادارے کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ ادارے کی طرف سے ان کی کتب کی اشاعت کا ذکر کیا۔ مجھے یہ بات سن کر بہت مسرت ہوئی۔ مجھے یقین تھا کہ محترم ایوبی کی علمی قیادت میں جس طرح دارالسلام نے ترقی کی اسی طرح المدینہ اسلامک سنٹر بھی ان کی علمی سیادت میں خیر کی منزلیں طے کرے گا۔
محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ فتنہ غامدیت لکھ رہے تھے، فون پر رابطہ ہوتا رہتا۔ میں ہر بار محترم ایوبی کو یہی کہتا یہ وقت کی ضرورت ہے۔ آپ بہت اہم ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ اس بات کی خوشی تھی کہ اس موضوع پر ان کاسیال قلم موضوع کا حق ادا کر دے گا اور مجھ ایسے طالب علموں کی رہ نمائی میسر ہو گی۔ نسلِ نو کے سامنے اس فکر کج کا پردہ چاک ہوگا۔ جیسے ہی کتاب چھپی میں نے خرید لی۔ مطالعہ کیا تو دل خوش ہوگیا۔ محترم ایوبی نے پھر یہ بتا کر چونکا دیا کہ اب جاوید غامدی کے اُستاد امین احسن اصلاحی پر لکھ رہا ہوں۔ پھر خبر دی کہ امین احسن اصلاحی کے استاد حمید الدین فراہی پر لکھ رہا ہوں۔ فکر غامدی کی ابتدا سے انتہا تک سب کا تعاقب کیا۔ میرے پاس یہ تینوں کتب موجود ہیں۔ آخری بار جب فون پر بات ہوئی تو کہنے لگے دعا کرنا کہ مفصل تفسیر کا کام مکمل ہوجائے۔ میں نے یقین سے کہا کہ ضرور ہوگا، ان شاء اللہ! لیکن مالکِ کائنات کی مشیت کچھ اور تھی۔
ماہنامہ محدث میں بھی آپ کی شاندار تحریریں شائع ہوتی تھیں۔ برسوں علمی رسالے ”الاعتصام‘‘ کے مدیر رہے۔ آپ کی زیرِ ادارت الاعتصام نے خوب نام کمایا۔ علمی، اصلاحی اور تحقیقی مضامین شائع ہوا کرتےتھے۔ حالاتِ حاضرہ اور قومی مسائل پرآپ کی گہری نظر تھی۔ آپ وفاقی شرعی عدالت کے مشیر بھی رہے۔
محترم صلاح الدین یوسف (ایوبی) رحمہ اللہ کی وفات کی خبر نے دہلا کر رکھ دیا۔ مرکز لارنس روڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جنازے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آنکھیں نم دیدہ اور دل غم زدہ تھے۔ محترم مولانا مسعود عالم صاحب نے امامت کی ذمہ داری ادا کی۔ بے شمار چاہنے والے ان کی مغفرت کے لیے دعاکرتے رہے۔ آپ کے فرزند رشید اور برادر عثمان یوسف حفظہ اللہ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) سے اُمید ہے کہ وہ اپنے والد کے علمی ورثے کی حفاظت کریں گے اور اس خیر کو آگے بڑھائیں گے۔ اللہ رب العالمین ان کا حامی و ناصر ہو۔