تحریر

مظفر کی ظفریابی

مظفر کی ظفریابی
کل صبح سوشل میڈیا پر مظفر علی ظفر رحمہ اللہ کی وفات کی خبر پڑھی تو دل بے چین ہوگیا، کلیجہ گویا کٹ گیا۔ جنازہ میں شامل ہونے کا ارادہ کیا۔ مصروفیات سمیٹتے چار بجے سفر کا آغاز کیا۔ جنازہ ساڑھے چھ بجے تھا۔ سفر میں کئی بار کلومیٹر، رفتار اور منٹوں کا حساب کرتے 6:40 پر مرکزی عیدگاہ بہاول پور پہنچا۔
عیدگاہ کے اطراف میں گاڑیوں کی طویل قطاریں تھیں۔ ایک جگہ گاڑی پارک کی۔ گاڑی میں پانی کی بوتل میں ایک کپ پانی موجود تھا۔ اس سے وضو کیا۔ بے ساختہ میدان عرفات میں کیا گیا ایک وضو یاد بن کر سامنے آیا۔ تیز قدموں سے مرکزی عیدگاہ میں داخل ہوا درود شریف کی تلاوت جاری تھی۔ باری تعالٰی کی رحمتوں کا نزول تھا۔ صف میں شامل ہوا۔ امام کی آواز ”ولا تضلنا بعده“ پر بھرا گئی۔ کتنی آنکھیں نم ہوئی ہوں گی۔ جنازہ ختم ہوا حافظ عبد اللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کے فرزند حافظ عبدالمنان حفظہ اللہ سے اور رفیق اثری حفظہ اللہ (بہاول پور) سے تعزیت کرکے عیدگاہ سے رخصت ہوا۔
چشمِ تصور نے زقند بھری اور ماہ و سال کو پلک جھپکتے عبور کرلیا۔ سفید گھنی داڑھی، صاف رنگت، آنکھوں پہ چشمہ، سر پر جناح کیپ، سیاہ شیروانی میں ملبوس فزکس کا پروفیسر سائیکل پر سوار، دھیمی رفتار سے پیڈل مارتا مسجد اہلِ حدیث شکار پوری کے بیرونی دروازے سے داخل ہوتا ہے۔ یکایک یہ منظر ذہن میں اُبھر آیا۔
مدینہ یونیورسٹی سے ارضِ پاک لوٹا تو مظفر علی ظفر حفظہ اللہ نے مجھے مسجد اہلِ حدیث شکار پوری گیٹ میں جمعہ کے لئے حکم دیا۔ میرے لئے سعادت کی بات تھی۔ جس منبر سے برسوں حافظ عبد اللہ بہاولپوری رحمہ اللہ نے دعوتِ حق بیان کی۔ جس مسجد میں بچپن، لڑکپن اور نوجوانی میں بیشتر جمعہ پڑھے۔ وہاں مجھے جمعہ پڑھانا تھا، سو جمعہ پڑھایا۔
کچھ عرصہ بعد محترم مظفر علی ظفر رحمہ اللہ بنفس نفیس بہاول نگر تشریف لائے اور بہاول پور ماہانہ ایک جمعہ کا تقاضا کیا۔ میں نے آمادگی کا اظہار کیا۔ مسجد اقصٰی ون یونٹ چوک بہاول پور میں خطبہ جمعہ دیتے مجھے ایک دہائی بیت گئی، شاید 12-14 برس ہو چلے۔
ان کا لباس صاف اور بے داغ ہوتا اس طرح ان کا کردار اور شخصیت بھی بے داغ تھی۔ جماعت کی مساجد کی تعمیر، دیگر امور خیر اور انتظامی معاملات خوش اسلوبی سے نمٹاتے رہے۔ متحرک زندگی گزاری۔ وقت کے پابند تھے۔ نرم گو، معاملہ فہم اور جراءت مند تھے۔ جماعت کی خاطر ذاتی منفعت کو پیچھے چھوڑ دیتے۔ مجھ پر شفقت فرماتے تھے۔ مجھ سے جماعتی معاملات اور سیاسی معاملات پر کبھی کبھار مشاورت کر لیتے۔ آخری بار غالباً اپریل، 2020ء میں بہاول نگر آئے اور میرے گھر دوپہر کا کھانا تناول کیا۔
ایک بار شاید انھوں نے خود بتایا تھا کہ میں دین کی طرف رغبت سے قبل دن میں دو بار چہرہ شیو Shave کرتا تھا۔ لیکن جب اللہ تعالٰی کی طرف پلٹے تو داڑھی سے چہرے کو مزین کرلیا۔ حافظ عبداللہ بہاولپوری رحمہ اللہ کی صحبت نے ان کی شخصیت میں نکھار پیدا کردیا۔ بہاول پوری رحمہ اللہ کو ان پر بھرپور اعتماد تھا کہ ان کی بھرپور تائید سے ہی مظفر علی ظفر رحمہ اللہ بہاول پور میں جماعت اہل حدیث کے امیر تھے۔
ایک دن فرمانے لگے: ”پیسہ آتا ہے تو مسائل بھی لاتا ہے۔ وسائل آتے ہیں تو مسائل بھی آتے ہیں۔“ ہائی کورٹ بہاول پور بنچ کے عقب میں ان کی رہائش گاہ تھی۔ کبھی کبھار ان کو لینے یا چھوڑنے کے لئے جانے کا اتفاق ہوتا۔ ان کے جانے کے بعد بہاول پور سے اِک اور شجرِ سایہ دار رخصت ہوا۔ گویا دل میں کچھ ٹوٹ گیا، کچھ بکھر گیا۔ میرے مولا، مظفر علی ظفر کو ظفریاب کر دے، کامیاب کر دے۔ ان پر رحم فرما۔ ان کو بخش دے۔ آمین یارب العالمین!
کچھ یادیں ، کچھ باتیں پر واپس