الشیخ مقصود احمد حفظہ اللہ سے پہلی ملاقات کم وبیش بیس برس قبل ہوئی۔ مدینہ یونیورسٹی داخلے کے حوالے سے سعودی سفارت خانہ کے پاس سرسری اور مختصر ملاقات تھی۔ مدینہ یونیورسٹی قیام کے دوران الشیخ کی آمد پر مختصر وقت کے لئے مجھے میزبانی کا موقع ملا۔ برسوں قبل الشیخ بہاول نگر تشریف لائے تو ملاقات کے لئے تشریف لائے۔
دو برس قبل اسلام آباد میں دیرینہ ساتھی جمیل علوی حفظہ اللہ (فاضل مدینہ یونیورسٹی) سے ملاقات کے لئے ان کے گھر گیا تو نماز عشاء جامع مسجد شاہ اسماعیل شہید میں ادا کی۔ الشیخ سے ملاقات ہوئی۔ مسجد میں درس دیا۔ اگلے شب الشیخ نے کھانے کی دعوت دی۔ الشیخ کے ہمراہ منفرد ریسٹورنٹ میں لذیذ کھانے سے لطف اندوز ہوئے۔ جمیل بھائی، عبدالرؤف حفظہ اللہ بھی شریک مجلس تھے۔ الشیخ کی شفقت سے وہ شام یادگار ہوگئی۔
ناروے میں قرآنِ مجید کی توہین پر میں نے روزنامہ پاکستان میں ایک کالم (دلیر مسلم کو سلام) تحریر کیا تو الشیخ نے اپنے مجلہ "ماہنامہ دعوۃ التوحید" میں اس کو شائع کیا۔ "ماہانہ نماز درخت سرگرمی" کے عنوان سے بچوں کی ایکٹویٹی کے لئے پمفلٹس چند ماہ قبل الشیخ کو ارسال کئے تھے تو الشیخ نے حوصلہ افزائی کی۔
تین روز قبل اسلام آباد پہنچا۔ کل الشیخ سے رابطہ کیا کہ جمعہ کو اسلام آباد ہوں۔ الشیخ نے شفقت کی اور آج میں نے جامع مسجد شاہ اسماعیل شہید میں خطبہ جمعہ کی ذمہ داری نبھائی۔ "کامیاب مؤمنین کون؟" کے موضوع پر خطبہ میں گفتگو کی۔ سورۃ المؤمنون کی ابتدائی چند آیات میرے پیش نظر تھیں۔ اختتام پر 25 دسمبر کی مناسبت سے Merry Christmas کے بارے میں سامعین کی رہ نمائی کی کہ مسلمان کے لئے ان کلمات کی ادائیگی درست نہیں۔ الشیخ کے فیس بک پیج سے خطبہ نشر ہوا۔ الشیخ نے آج سی بی آر ٹاؤن میں جمعہ پڑھایا۔
رات کو الشیخ سے ملاقات تھی اور حسب سابق کھانے کا اہتمام تھا۔ الشیخ نے گھر میں لذت بھرے کھانے سے تواضع کی۔ یحیٰی بھائی سے ملاقات ہوئی۔ مختلف امور الشیخ سے گفتگو رہی۔ سرد میں موسم میں گرم جوشی سے بھری یادیں سمیٹ کر رخصت ہوا۔
یاد
انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی میں یک سالہ تعلیم کے دوران وفاقی دارالحکومت سے منسلک کئی ایک حسین یادیں ہیں۔ آج شام ڈھلے فیصل مسجد چلا آیا۔ ہوسٹل نمبر 2 دعوۃ اکیڈمی کے گیسٹ ہاؤس میں بدل چکا۔ ہوسٹل کو جاتی سڑک پر مرکزی گیٹ بند تھا۔ بالوں میں اترتی سفیدی نے شاید ذہن میں سرگوشی کی بیس برس گزر چکے، منظر بدل چکے، عمارتیں بدل چکی، چہرے بدل چکے۔ عبید الرحمان، عزیز الرحمان، حفیظ الرحمان، ملک سلیمان، وجاہت چوہدری، حامد خان۔۔۔ یاد کی لہر میں کئی نام ابھر آئے۔۔۔۔
مزید باتیں، مزید یادیں پھر سہی۔۔۔۔
آئی 9 فور (اسلام آباد) میں