محدث ابوالاشبال صغیر احمد شاغف رحمہ اللہ سے برسوں قبل حرم مکی میں بابِ بلال کی جانب ملاقات ہوئی۔ بیتے برسوں کی برکھا نے ملاقات کے نقوش دھندلا دئیے۔ یاد پڑتا ہے کہ وضع الیدین بعد الرکوع کے بارے میں بھی طالب علم نے استفسار کیا تھا۔
تقريب التهذيب کا ایک نسخہ أبوالأشبال صغير أحمد شاغف الباكستاني کی تحقیق سے شائع ہوا وہ مدینہ نمائش کتب (معرض الکتاب) سے، اس طالب علم نے خرید کر مکتبہ کی زینت بنایا تھا۔
اگر حافظہ ساتھ دے رہا ہے تو الشیخ عبدالمحسن العباد حفظہ اللہ کے درس میں ابوالأشبال کی تعریف بھی سنی تھی، شاید الشیخ نے کہا تھا: ”دیکھئے، اس بارے میں الشیخ الباکستانی ابوالأشبال نے کیا کہا ہے۔“
فتاوی ثنائیہ مدنیہ (جلد اول) میں الشیخ حافظ ثناءاللہ مدنی حفظہ اللہ نے ”مسنون خطبہ کے الفاظ“ کے بارے میں ایک سوال کا جواب رقم کیا۔ اس جواب پر الشیخ ابوالأشبال رحمہ اللہ کا تعاقب بھی فتاوٰی ثنائیہ مدنیہ میں مرقوم ہے۔ دونوں علماء کے مابین یہ تحریری مکالمہ کم و بیش 65 صفحات پر مشتمل ہے۔ علم حدیث کے شائقین اسے دیکھ سکتے ہیں۔ (صفحہ 300 تا 415)۔
الشیخ ابوالأشبال رحمہ اللہ کا تعلق اصلا بہار (ہند) سے تھا۔ اللہ رب العالمین مغفرت فرمائیں اور ان کی قبر کو منور فرمائیں۔
محدث ابو الاشبال شاغف رحمہ اللہ