تحریر

ڈاکٹر راشد، رشد و ہدایت کی راہ پر

ڈاکٹر راشد، رشد و ہدایت کی راہ پر
سرخ و سپید رنگت، لانبا قد، روشن آنکھیں، سر پر قراقلی ٹوپی، اجلا لباس، گھنی داڑھی، منہدی سے رنگے سنہری زرد بال، باوقار کلام اور بارعب شخصیت۔
جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی میں ایک سال تعلیم (2000-1999ء) کا موقع ملا۔ ڈاکٹر محمد راشد رندھاوا رحمہ اللہ ان ایام میں جامعہ کے مدیر تھے۔ چند ہفتے بعد جامعہ تشریف لاتے اور الطابور (اسمبلی) میں شرکت کرتے۔ اظہارِ خیال بھی فرماتے اور طلبہ کو نصیحت سے نوازتے۔ ایک بار میرے زمانہ طالب علمی (04-2000ء) میں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بھی تشریف لائے۔ جامعہ ابی بکر کی نمائندگی کرتے ہوئے مدینہ یونیورسٹی کے اساتذہ سے ملاقات کی۔ اس روز آپ عربی لباس اور عبایا پہنے ہوئے تھے۔
جولائی 2002ء میں جامعہ لاہور الاسلامیہ اور الشیخ سلیمان الراجحی فاؤنڈیشن کے تعاون سے سعودی جامعات میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ اور پاکستانی جامعات کے طلبہ کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس کی افتتاحی تقریب ہمدرد سنٹر لاہور میں ہوئی تھی۔ تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں ڈاکٹر راشد رندھاوا بھی شامل تھے۔ رخصت ہوتے وقت میں نے ان سے چند منٹ طلب کئے، انھوں نے شفقت فرمائی۔ میں نے ان کو جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کراچی کے طلبہ کی بہبود کے بارے چند مشورے دئیے، جنہیں آپ نے توجہ سے سنا اور اچھی بات کہی۔
برسوں قبل ایک بار ھشام بھائی (ھشام الٰہی ظہیر حفظہ اللہ) سے ملنے مرکز لارنس روڈ گیا، تو خطبہ جمعہ کے بعد ھشام بھائی، ڈاکٹر صاحب سے محو گفتگو تھے۔ حاملینِ قرآن و سنت سے، ان کی مساجد سے، ان کے مدارس و مراکز سے خصوصی تعلق اور محبت رکھتے تھے۔ مولانا محمد عائش حفظہ اللہ اور بانی جامعہ ابی بکر الاسلامیہ الشیخ ظفراللہ رحمہ اللہ سے بھی گہرا تعلق تھا۔
آپ پاکستان بیت المال کے چئیرمن بھی رہے۔ مرکز الدعوة الاسلامية ستیانہ بنگلہ کے رئیس بھی تھے۔ میڈیکل ڈاکٹر تھے اور نام ور معالج تھے۔ آپ نے ایک متحرک زندگی بسر کی اور رشد و ہدایت کی راہ پر گامزن رہے۔ آج آپ کی وفات کی خبر ملی، دل کو دھچکا لگا۔ اللہ رب العالمین آپ کی مغفرت فرمائیں، لواحقین اور چاہنے والوں کو صبر عطا فرمائیں۔
اللهم اغفرله و ارحمه
کچھ یادیں ، کچھ باتیں پر واپس